بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے چند گھنٹوں بعد صدر محمد شہاب الدین نے جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء اور سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف حالیہ احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے تمام طلبہ کو رہا کرنے کا حکم دیا۔
صدر شہاب الدین نے کہا کہ انھوں نے آرمی چیف اور سیاسی نمائندوں کے اجلاس کی صدارت کی جس میں یہ اہم فیصلہ لیا گیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی، نئے انتخابات کرائے جائیں گے اور کرفیو جلد اٹھا لیا جائے گا۔
بنگلہ دیش میں اس سیاسی بحران پر اب تک شیخ حسینہ واجد کے حمائیتی اور ہمسایہ مُلک انڈیا کی جانب سے کوئی سرکاری ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو مِلر کی جانب سے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بنگلہ دیش کی صورتحال سے متعلق کہنا تھا کہ ’بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام بنگلہ دیشی حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔‘
حسینہ واجد کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں واپس نہیں آئیں گی۔ سابق وزیر اعظم نے 1996 میں پہلی بار اقتدار میں آنے کے بعد مجموعی طور پر 20 سال اقتدار میں گزارے۔
ان کے بیٹے سجیب واجد جوئے نے بی بی سی کے نیوز آور پروگرام میں اپنی والدہ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ 70 سال کی ہو چُکی ہیں، وہ اس سب کی وجہ سے بہت مایوس ہوئی ہیں۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان نے اس مُلک کے لیے بہت کُچھ کیا اب بس۔‘
ناقدین کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد کے دور حکومت میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور حزب اختلاف کی شخصیات اور حکومتی ناقدین کو کچلنا شامل تھا۔
لیکن حسینہ واجد کے بیٹے جو ٹیکنالوجی کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے (حسینہ واجد) گزشتہ 15 سالوں میں بنگلہ دیش کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔‘
یاد رہے کہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف ایک ماہ قبل شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک تقریبا 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور مُلک میں حکومت مظاہرے ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئے جن میں شیخ حسینہ واجد کے وزارتِ اعظمیٰ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا۔










