الہ آباد ہائی کورٹ نے الجزیرہ کو ہندوستان کے مسلمانوں پر دستاویزی فلم نشر کرنے سے روک دیا۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق رراصل الہآباد ہائی کورٹ ایک عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ‘انڈیا… ہو لٹ دی فیوز’ نامی فلم کا مقصد ہندوستان میں مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا اور اس کے سیکولر تانے بانے کو تباہ کرنا ہے
رپورٹس کے مطابق، ہائی کورٹ نے اس درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے زیر بحث فلم کے ٹیلی کاسٹ کو ملتوی کر دیا، ٹیلی کاسٹ سے سامنے آنے والے ممکنہ ‘برے نتائج’ پر غور کیا گیا۔
عدالت نے مرکزی حکومت اور اس کے تحت بنائے گئے ٹربیونلز کو یہ بھی ہدایت دی کہ ‘اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مناسب قانونی اقدامات کریں کہ جب تک اس کے مواد کی متعلقہ ٹربیونلز کے ذریعے جانچ نہیں کی جاتی اس وقت تک فلم کو ٹیلی کاسٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
علاوہ ازیں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ‘سماجی ہم آہنگی کی حفاظت کریں اور ہندوستانی ریاست کی سلامتی اور مفادات کاتحفظ کریں’۔ یہ درخواست ایک نامعلوم سماجی کارکن سدھیر کمار نے دائر کی ہے، جس میں عدالت نے الجزیرہ کی ڈاکیومنٹری پر پابندی لگانے کی تفصیلی وجوہات بتائی ہیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ ‘مختلف مذہبی فرقوں کے درمیان نفرت کو فروغ دیتی ہے’۔ اور جو ہندوستانی ریاست کے سیکولر تانے بانے کو تباہ کر سکتا ہے۔ فلم سماجی بدامنی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور امن عامہ، شائستگی اور اخلاقیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ دی وائر کا کہنا ہے کہ وہ دستاویزی فلم کے مواد کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ اسے پرنٹ اور سوشل میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ فلم "ہندوستان کی اقلیتوں کو خوف کے سائے میں دکھاتی ہے اور عوامی نفرت کا احساس پیدا کرتی ہے۔” مسخ شدہ تشریحات پیش کرتی ہے۔ جو حقیقت سے بہت دور ہیں۔







