اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نصف انسانیت کو مفید تر بنانے کی بھی منصوبہ بندی کیجیے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
نصف انسانیت کو مفید تر بنانے کی بھی منصوبہ بندی کیجیے
55
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:کلیم الحفیظ،نئی دہلی

خواتین سماج کا نصف حصہ ہیں،کسی بھی سماج اور قوم کی ترقی اور خوشحالی میں خواتین کا اہم رول ہے۔لیکن خواتین کے تعلق سے ہمیشہ بے توجہی برتی گئی ہے۔برصغیر کی امت مسلمہ نے بھی اس سلسلے میں کوئی خاص رول ادا نہیں کیا بلکہ موجودہ زمانے میں تودنیا نے خواتین کی پسماندگی کی ذمہ داری امت مسلمہ اور اسلام پر ڈال دی ہے۔قطع نظر اس سے کہ دنیا کے الزامات کتنے سچے اور اور کتنے جھوٹے ہیں ہمیں اپنے سماج اور معاشرے کا جائزہ لینا ہی چاہئے اور نصف انسانیت کو مفید تر بنانے کی منصوبہ بندی کرنی ہی چاہئے۔اسلام نے خواتین کو معاشرے میں جو مقام دیا ہے اور تعمیر انسانیت میں اس کا جو بنیادی کردار طے کیا ہے اس کے مقابلے پر آج نہ کسی آسمانی دین اور نہ آج کی تہذیب نے عورت کوکوئی مقام دیا ہے۔لیکن برا ہو جہالت کا کہ خود اسلام کے علم بردار ہی عورت کے مقام بلند کو بھول گئے۔کا ش مسلمان خواتین کے تعلق سے ہی اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں تو باقی خواتین کے لیے بھی اسلام کے دامن رحمت میں آنے کا راستہ ہموار ہوجائے۔

عورت کے جتنے بھی روپ ہیں وہ قابل احترام ہیں۔منکوحہ ہونے کی صورت میں اس کے شوہر پر جو حقوق عائد ہوتے ہیں وہ اسے گھر کی ملکہ بنادیتے ہیں۔ماں ہونے کی صورت میں تو بہشت اس کے قدموں میں سماجاتی ہے۔بیٹی ہونے کی صورت میں والدین کے لیے جنت کا سرٹیفکیٹ ہوتی ہے۔بہن ہونے کی شکل میں بھائی کے لیے ایک ایسا دلار ہوتی ہے جسے بھائی بہن ہی سمجھ سکتے ہیں اور اس دلار کی کمی کی تکلیف کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو بہن جیسی انمول نعمت سے محروم ہیں۔اسلام نے عورت کو زندہ رہنے ،تعلیم حاصل کرنے،اپنی پسند کی شادی کرنے،کاروبار کرنے،سرکاری خدمات میں حسب حیثیت ملک کی خدمت کرنے،ضرورت پڑنے پر ہتھیار اٹھانے ، اپنی اور اپنے وطن کی حفاظت کرنے تک کی آزادی سے نوازا ہے۔اب یہ ذمہ داری سماج کے مردوں کی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں اور وہ ذرائع وجود میں لائیں کہ عورت اپنی آزادی و اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرسکے۔

خواتین کے اندر صلاحیتیں بھی کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں ہوتیں ۔طاقت و قوت کے معاملے میں بھی اگر خواتین کو موقع ملا ہے تو انھوں مردوں کے شانہ بشانہ پتھر بھی اٹھائے ہیں اور جنگیں بھی لڑی ہیں۔لیکن عام طور پرجسمانی ساخت میں عورت مردوں کے مقابلے کچھ کمزورہی واقع ہوئی ہے ورنہ عقل و شعورکی جملہ صلاحیتیں مردوں کی طرح اسے بھی عطا کی گئیں ہیں۔اس کا ثبوت ہر زمانے کی خواتین نے دیا ہے۔حافظ قرآن،عالمات،معلمات کے زمرے میں خواتین نے ہر زمانے میں مردوں کے برابر کامیابی حاصل کی ہے ۔جدید علوم کے میدان میں بھی ڈاکٹرس،انجینیرس،سائنٹسٹ یہاں تک کہ ہوائی جہاز اڑانے کے فنون میں خواتی آج بھی موجود ہیں،مگر وہ اپنی تعداد کی مناسبت سے بہت کم ہیں۔خلوص اور لگن کے باب میں تو خواتین مردوں سے کہیں آگے ہیں ۔لڑکیوں کا رذلٹ لڑکوں سے اکثر بہتر ہی سامنے آیا ہے۔

خواتین کی پسماندگی کا بڑا سبب حکومتوں کی جانب سے ان کی تعداد و آبادی کے مطابق سہولیات کا فقدان ہے۔جس تعداد میں لڑکوں کے اسکول کالج ہیں ،لڑکیوں کے نہیں ہیں۔مخلوط تعلیمی اداروں میں لڑکوں کی طرف سے جو بدتمیزیاں ہوتی ہیں اس کے سد باب کا بھی کوئی نظم نہیں ہے۔شہروں میں اگر کوئی گرلز اسکول ہے بھی تو دیہات کی لڑکیوں کو آمدورفت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔زنا بالجبر کے آئے دن ہونے والے واقعات لڑکیوں کو گھر میں قید ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔انسانی درندے نابالغ اور معصوم بچیوں تک کو نہیں چھوڑتے ،عصمت دری کاخوف بچیوں کی تمنائوں کا خون کردیتا ہے،ان کی صلاحیتوں سے سماج کو محروم کردیتا ہے۔نظم و قانون کی موجودہ صورت حال میں سول ڈیفینس تک میں کام کرنے والی لڑکی کی عزت اور جان محفوظ نہیں ہے ایسے میں عام لڑکیاں کس طرح ہمت کرسکتی ہیں۔مخلوط تعلیم کے حامیوں نے مساوات کے نام پر لڑکیوں کو لڑکوں کی ہوس کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے کوئی لائحہ ٔ عمل نہیں بنایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طرف گرلز کالجوں کی تعداد کم ہوگئی اور مخلوط اداروں میں تعلیم کے بجائے شیریں و فرہاد کے کردار جنم لینے لگے۔مسلم سماج ہی نہیں ہر باعزت شہری کو سب سے پہلے اپنی بچی کی عزت کی حفاظت درکار ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ بھارت میں کوئی ایک شخص بھی ایسا ہو جو اپنی بچیوں کے ساتھ عصمت دری کو برداشت کرسکتا ہو۔ہم جنسی شادیوں او ر لیو ان ریلیشن شپ کو قانونی جواز فراہم ہوجانے کے باوجود بھارتی تہذیب نے اس بے حیائی کودھتکار دیا ہے۔

مسلم امت نے بھی بچیوں کی تعلیم کا معقول بندو بست نہیں کیا۔ہر مرد وعرت کے لیے حصول تعلیم کو فرض قرادینے والے نبی کی امت میں نہ جانے کس نے یہ جہالت پیدا کردی کہ بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھناچاہئے۔امت نے لڑکوں کی تعلیم کے لیے مدارس کے قیام کا سلسلہ شروع کیا لیکن لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی نظم نہیں کیا۔اب کہیں جا کر کچھ ادارے وجود میں آئے لیکن ان کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے ۔ہزاروں دارالعلوم لڑکوں کے لیے قائم کیے گئے لیکن لڑکیاں مسجد کے امام اور محلہ کی ملانی تک محدود ہوکر رہ گئیں۔گائوں دیہات کا تو ذکر ہی کیا بڑے بڑے شہر مسلم لڑکیوں کے تعلیمی اداروں سے محروم ہیں۔یہ نعرہ بھی ہمیشہ لگایا جاتا رہا کہ ایک مرد کی تعلیم صرف ایک مرد کی تعلیم ہے جب کہ ایک عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے مگر خواتین کو ہمیشہ دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھا گیا۔کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ پہلے لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام کیا جائے ،لڑکوں کا بعد میں کرلیں گے ،ہمیشہ اور ہر جگہ یہی ہوا کہ پہلے لڑکوں کی تعلیم کا انتظام کیا گیا اور لڑکیوں کو ’’پھر کبھی ‘‘ پر چھوڑ دیا گیا۔

ضرورت ہے کہ خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور انھیں سماج کے لیے مفید بنانے کے لیے سرکار بھی منصوبہ بندی کرے اور پرائیویٹ ادارے بھی ،سماجی اور مذہبی تنظیموں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اس جانب خصوصی توجہ دیں۔عورت کی صلاحیتوں سے سماج اور ملک کو مستفید کرنے کے لیے اسے تعلیم اور سازگارماحول کے ساتھ با اختیار بنانے کی بھی ضرورت ہے ۔کہنے کو تو سیاسی سطح پر پنچایت اور لوکل باڈیز کے انتخابات میں خواتین کو پچاس فیصد تک رزرویشن حاصل ہے لیکن خواتین میں تعلیم کی کمی ہونے کے سبب وہ ان کے سیاسی اختیارات بھی مرد ہی استعمال کرتے ہیں خاص طور پر مسلم سماج کی صورت حال سو فیصد یہی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ حکومتی سظح پر تعلیم کے تمام شعبہ جات تک خواتین کی بآسانی اور بحفاظت رسائی ہو ،غیر سرکاری این جی اوز خاص طور پر دیہات پر توجہ دیں ،مذہبی تنظیمیں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا بندو بست کریں۔باصلاحیت خواتین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے معاشرے کو مستفید کریں۔ہر تعلیم یافتہ خاتون اپنے علم کے مطابق بستی اور محلہ کی لڑکیوں کو فیضیاب کرے۔تعلیم کی دلدادہ طالبات بھی عزم و ہمت سے کام لیںاور موجود ذرائع و وسائل کے ساتھ ہی آن لائن ایجوکیشن سسٹم سے فائدہ اٹھائیں ۔اسی طرح ہنر مند خواتین اپنے ہنر کا استعمال اپنے گھر کی خوش حالی کے لیے کرسکیں اس کے مواقع انھیںفراہم کیے جانے چاہئے۔مہنگائی کے اس دور میں ہنر مند خواتین کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ جہیز ،بارات،شادی اور مرنے جینے کی غیر اسلامی اور فضول رسموں کو چھوڑا جائے ،تاکہ اس رقم کا استعمال خواتین کی تعلیم و ترقی اور گھر کی خوش حالی پر کیا جاسکے۔معاشرے کے اجتماعی امور میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔تاکہ وہ درپیش چیلنجز کو سمجھ سکیں اور ان کے مقابلے کے لیے خود کو تیار کرسکیں۔میں دیکھتا ہوں جتنی بھی سیاسی،سماجی،مذہبی تنظیمیں ،جماعتیں اور سنگٹھن ہیں ان میں خواتین کی شمولیت آٹے میں نمک کے برابر ہی ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ ان کی حیثیت چاول کے ساتھ کم سے کم دال کی توہو۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN