نئی دہلی :
اپنے میں سما لینے اور اپنی طرح بنالینے کی برہمن وادی ہندوتو مہم کی زد میں دیگر کے ساتھ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر بھی ہیں، سنگھ کے کئی اشاعتی ادارے اس میں لگے ہوئے ہیں، وہ ڈاکٹر امبیڈکر کو ہندو سماج کا جدید منو اور مصلح باور کراتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بتانے میں لگے ہوئے ہیں۔
سروچی پر کاشن اور پربھات پرکاشن دہلی نے کئی کتابیں شائع کی ہیں، ان پر کئی پہلوؤں سے بحث و مطالعہ کی ضرورت ہے، آج کی تاریخ میں ڈاکٹر امبیڈکر کو ہندوتو وادی بتانے کی کوشش کا خاص مقصد ہے ، لیکن یہ جھوٹ اور فریب و مغالطے پر مبنی ہے، اس پر راقم سطور نے 300 صفحات پر مشتمل اپنی کتاب، ہندوتو ،اہداف ومسائل میں حوالے کے ساتھ بحث کی ہے، گورنمنٹ کی طرف سے 22 جلدوں میں شائع امبیڈکر واگمے کی 17ویں جلد، حصہ دوم اور Thoughts on Pakistan, اور Pakistan or Partition of India کے نام شائع کتاب ( صفحہ 385) میں واضح طور سے ہندوتو کو لعنت و آفت اور جمہوریت مخالف قرار دیتے ہوئے اس کو روکنے کے لیے ابھارا ہے، ان کی ایک کتاب، 22 پرتگیا کے نام سے بھی سدھارتھ پرکاشن دہلی سے شائع ہوئی ہے ،یہ ڈاکٹر امبیڈکر کی بیشتر سوانح میں بھی شامل ہیں، پرتگیا (عہد) میں بدھ مت کو قبول کرتے ہوئے صاف صاف کہا گیا ہے‘
(1)میں برہما، وشنو اور مہیش میں یقین و اعتماد نہیں رکھوں گا اور نہ ہی پوجا کروں گا۔
(2) میں رام اور کرشن، جو بھگوان کے اوتار مانے جاتے ہیں، میں کوئی یقین و عقیدت نہیں رکھوں گا اور نہ ان کی پوجا کروں گا۔
( 3)میں گوری، گن پتی اور ہندؤں کے دیگر دیوی دیوتاؤں میں کوئی یقین نہیں رکھوں گا اور نہ ہی ان کی پوجا کروں گا۔
(4) میں بھگوان کے اوتار میں یقین نہیں رکھتا ہوں۔
( 5)میں یہ نہیں مانتا اور نہ مانوں گا کہ بھگوان بدھ وشنو کے اوتار تھے، میں اسے پاگل پن اور جھوٹا پرچار مانتا ہوں۔
( 6)میں شرادھ میں شریک نہیں ہوں گا اور نہ پنڈ دان دوں گا۔
( 8) میں برہمنوں کے ذریعے منعقد کی جانے والی کسی تقریب کو تسلیم نہیں کروں گا۔
( 19) میں ہندو دھرم کا تیاگ کرتا ہوں، جو انسانیت کے لیے مضر ہے، جو ترقی اور انسانیت کے ارتقاء میں رکاوٹ ہے، کیوں کہ وہ اونچ نیچ پر مبنی ہے۔
اس پرتگیا کو حال ہی میں سبھاش گتاڈے کی انگریزی، ہندی میں شائع کتاب ،مودی نامہ میں بھی نقل کیا گیا ہے، اس کے باوجود بھی اگر ڈاکٹر امبیڈکر کو بھارت کا جدید منو اور ہندوتو کی مورتی اور نمائندہ کے طور پر پیش کیا جائے جائے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور کیا کچھ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ضرورت ہے کہ ملک کی معروف شخصیات کا مطالعہ ان کے اصل ماخذ کی روشنی میں کیا جائے۔










