امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کی تازہ کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کا فیصلہ اقوام متحدہ کے ذریعے نہیں کیا جانا چاہیے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ‘ہم ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں مگر اس کے بارے میں فیصلہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہونا چاہیے۔’
ترجمان نے مزید کہا ‘یہ وہ چیز ہے جو فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں ہونی چاہیے۔ ہم اس وقت جس چیز کو آگے بڑھانا چاہ رہے ہیں وہ اقوام متحدہ کے ذریعے نہیں ہونی چاہیے۔’ تاہم امریکی ترجمان نے اس موقع پر یہ نہیں کہا کہ اگر ایسی کوئی قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سامنے آئی تو امریکہ اسے ویٹو کر دے گا۔
واضح رہے حالیہ دنوں میں اسرائیل کی طرف سے بعینہ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ فلسطینی ریاست کا فیصلہ کسی اور کو کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ فریقین کے باہمی مذاکرات کے نتیجے میں ہی ہونا چاہیے۔ اب امریکہ جس کے بظاہر اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں قدرے اختلاف کا تاثر دونوں طرف سے دیا جا رہا ہے نے اسرائیل کی بات کو بالکل اسی طرح بیان کیا ہے اور اسی طرح آگے بڑھایا ہے۔ گویا فلسطین اور فلسطینیوں کے بارے میں دونوں کی رائے میں کوئی بھی بامعنی اختلاف نہیں ہے۔
میتھیو ملر نے کہا ‘امریکی وزیر خارجہ بڑی فعالیت کے ساتھ اسرائیل کے لیے سلامتی کی ضمانتیں حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جو کہ فلسطینی ریاست کے لیے زمین پر کام کرنے کے لیے اہم ہے۔ امریکی جوبائیڈن انتظامیہ نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت میں اضافے کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیز فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات پر بھی زور دیا ہے۔ تاکہ مغربی کنارے اور غزہ دونوں جگہوں پر اس کی نگرانی ممکن ہو سکے۔’
امریکہ فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات کو غزہ سے حماس کے خاتمے کے تناظر میں بھی بہت اہم سمجھتا ہے۔ اس بارے میں امریکہ اور اسرائیل کی رائے میں کوئی فرق نہیں ہے کہ غزہ سے حماس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور فلسطینیوں کی مزاحمتی قوت سے اسرائیل کو کوئی خطرہ نہیں رہنا چاہیے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کئی دہائیوں سے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ آج کل دائیں بازو کی انتہا پسند اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائے ہوئے ہیں۔ اس مخلوط حکومت میں انتہا پسند جماعتوں کے نمائندے فلسطینی اتھارٹی کے انتہائی محدود اختیارات کے ساتھ بھی خوشگوار سوچ کے حامی نہیں ہیں۔









