نئی دہلی :(ایجنسی)
مرکزی حکومت میں نمبر 2 اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی کسی کو یا کسی پارٹی کو ملک مخالف (اینٹی نیشنل) نہیں کہا، لیکن اگر کوئی پارٹی ملک مخالف سرگرمیوں کی حمایت کرتی ہے تو ہم اسے ضرور بے نقاب کریں گے ۔ یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے ۔ یہ بات امت شاہ نے معروف اخبار انڈین ایکسپریس کو دئے گئے انٹرویو میں کہی۔ ان سے یوگی کے مستقبل کے وزیر اعظم بننے کے بحث کے سوال کو بڑی صفائی سے ٹال دیا۔امت شاہ نے اکھلیش یادو کی پچھلی حکومت کے بارے میں کہا- آپ اس سچائی سے کیسے انکار کر سکتے ہیں کہ اکھلیش حکومت نے انسداد دہشت گردی قوانین کے کئی ملزمین کو رہا کیا۔ اس معاملے میں الٰہ آباد کورٹ تک نہ مداخلت کی۔ اگر کوئی سرکار دہشت گردوں کے خلاف کیس واپس لیتی ہے تو ہم اسے ملک مخالف کہیں گے ۔
یہ پوچھے جانے پر کہ 2017 سے 2022 کے انتخابات کتنے الگ ہیں، امت شاہ نے کہا کہ اس بار ہماری طاقت میں بہتری آئی ہے۔ مودی جی ابھی بھی ہیں۔ ان کے ساتھ یوگی حکومت نے پچھلے پانچ سالوں میں یوپی کے لیے جو کام کیے ہیں اس کابھی ساتھ ہے۔ بی جے پی کے حق میں کئی اور بھی چیزیں ہیں ۔ اس لئے میں خود کو مضبوط محسوس کرتا ہوں۔
اس پر امت شاہ سے سوال کیا گیا کہ اکتوبر میں یوپی کی پہلی انتخابی مہم کے آغاز میں ان کی تقریر تھی کہ اگر لوگ چاہتے ہیں کہ نریندر مودی 2024 میں وزیر اعظم بن کر واپس آئیں تو انہیں 2022 میں یوگی آدتیہ ناتھ کو جتوانا ہوگا۔ یہ لنک کیوں ہے؟ اس سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔ میں نے جو کہا وہ یہ تھا کہ دہلی کی سڑک لکھنؤ سے ہو کر گزرتی ہے۔
’’یوپی میں لوک سبھا کی 80 سیٹیں ہیں، اس لیے 2024 میں اقتدار میں واپسی کے لیے بی جے پی کا یوپی میں اقتدار میں ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر کوئی مرکز میں مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانا چاہتا ہے تو وہ یوپی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔‘‘
یوپی میں حکومت چلانے میں اختلافات اور چیلنجوں کے بارے میں امت شاہ نے کہا – کوئی چیلنج نہیں تھا۔ جسے آپ اختلاف کہتے ہیں، اسے میں وہم کہتا ہوں۔ حقیقت میں کوئی مشکل نہیں تھی۔ جب پارٹی کے سینئر رہنما آتے ہیں تو اس قسم کی الجھنیں دور ہو جاتی ہیں۔ ہمارے مقاصدکو کیا نوکر شاہ چلاتے ہیں ؟ اگر کچھ کمیاں ہیں، تو ہم ایک ساتھ بیٹھ کر انہیں دور کر سکتے ہیں ۔ ان سے سوال کیا گیا کہ ایسے ایم ایل اے ہیں جو سرکار اور کارکنان کے درمیان خلیج کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ فطری ہے ۔ ہماری پارٹی جمہوری ہے اور اظہار رائے کی آزادی ہے ، لیکن ہماری پارٹی ڈسپلن بھی ہے ۔ الیکشن شروع ہوتے ہی سب ڈسپلن کے دائرے میں آگئے ۔
’’آج مغرب سے لے کرغازی آباد ہوتے ہوئے سون بھدر تک آپ دیکھیں گے کہ بی جے پی کا پورا کیڈر جیت کی سمت میں کام کررہاہے ۔ ایک مرحلہ ختم ہونے کےبعد ، وہ اگلے مرحلے میں انتخاب کے لئے چلے جاتے ہیں ۔ ‘‘
او بی سی ووٹوں میں دراڑ پر مرکزی وزیر داخلہ نے کہا 2014 سے ، مودی جی کایہ نعرہ: ’سب کاساتھ، سب کا وشواس ‘ ہم ابھی بھی اسی نعرے کے ساتھ ہے ۔ زبان الگ ہو سکتی ہے ۔ کوئی بھی ذات برادری ہم سے دورنہیں گیاہے ۔ کچھ لیڈر چلے گئے ہیں ۔ یوپی میں بی جے پی کے کئی لیڈروں کے دوسری پارٹیوں میں جانے پر امت شاہ نے کہاکہ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ کچھ لیڈر ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہو جائیں۔ اگر کوئی پارٹی کے اندر خوش نہیں ہے تو وہ پارٹی چھوڑ کر دوبارہ مینڈیٹ حاصل کرے۔ لیکن یہ سب جمہوری ہے۔ اس کے جانے کے بعد ہم نے اپنی حکمت عملی بالکل نہیں بدلی۔ ہاں بعض اسمبلی حلقوں میں امیدواروں کو تبدیل کیا گیا۔ لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پارٹی میں رہتے ہوئے بھی انہیں تبدیل کر دیا گیا ہو۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ چلے گئے تھے۔
’’یوپی میں، کوئی بھی کسی خاص برادری کے ووٹوں کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ہر ووٹر اپنا فیصلہ خود کرتا ہے۔‘‘
یہ پوچھے جانے پر کہ بی جے پی نے 2017 اور 2022 میں کوئی مسلم امیدوار کیوں نہیں کھڑا کیا؟ امت شاہ نے کہا، سب کا ساتھ، سب کا وکاس کوئی سیاسی نعرہ نہیں ہے، یہ اس حکومت کی پالیسی ہے۔ یہ ناکام ہو جائے گا اگر ایک مسلمان خاندان، جو مفت راشن پانے کا حقدار ہے، اسے نہیں ملتا ہے۔ اگر اسے مفت گیس کنکشن نہیں ملتاہے، اگر اہل ہونے کے باوجود اسے ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکان نہیں ملتاہے۔ یا جب ایک ہندو کو بجلی کا کنکشن ملتا ہے اور ایک مسلمان خاندان کو نہیںملتاہے۔ اگرایسا ہو تا ہے تو نعرہ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ میں آپ کو اعتماد کے ساتھ بتا سکتا ہوں۔ اگر آپ پورے یوپی میں تلاش کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ اسکیمیں ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز کیے بغیر لاگو کی جاتی ہیں۔ان کے جواب پر انڈین ایکسپریس نے سوال کیا کہ کیا ایم ایل اے میں، حکومت میں بھی(اقلیتوں کی) نمائندگی اہم نہیں ہے۔ ؟ اس پر امت شاہ نے کہا۔
’’ ہماری ٹکٹوں کی تقسیم جیت کی بنیاد پر ہے۔ یہ صورتحال میڈیا پیدا کرتی ہے۔ اگر میڈیا اقلیتوں اور بی جے پی کے درمیان دراڑ پیدا نہیں کرے گا تو تبدیلی آئے گی۔ لیکن جوں جوں دراڑ وسیع ہوتی جائے گی، کوئی بھی امیدوار جیت نہیں پائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ یہ خلا ایک دن ختم ہو جائے گا۔ آپ بھی اس میں بی جے پی کی مدد کریں۔ اگر آپ یہ سوال پوچھیں کہ ’کیا کوئی خاندان حکومت کی اسکیم سے بچ گیا ہے؟‘ لیکن آپ پوچھتے ہیں ‘کیا آپ کو ٹکٹ مل گیا؟‘‘
حجاب کے معاملے پر امت شاہ نے کہا – ہم نے کرناٹک حکومت کو کوئی ہدایات نہیں دی ہیں۔ کرناٹک حکومت ہائی کورٹ کے حکم پر عمل کر رہی ہے۔ لیکن جب امت شاہ سے پوچھا گیا کہ وہاں لڑکیوں اور ٹیچر سے حجاب اتروا گیا ، کیا انہوں نے وہ ویڈیو نہیں دیکھی، اس پر امت شاہ نے کہاکہ کرناٹک پولیس کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔ ویسے بھی معاملہ کورٹ میں ہے ۔ ہائی کورٹ کو طے کرنے دیجئے ، کوئی اخبار اس مسئلہ کو نہیں سلجھا سکتا۔
ذات پر مبنی مردم شماری کے بارے میں پوچھے جانے پر امت شاہ نے صاف صاف کہا کہ اتنے تو ذاتی گروپ ہے،ذات پر مبنی مردم شماری ممکن نہیں ہے۔ لیکن کوئی نہ کوئی طریقہ تلاش کرنا پڑے گا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے مستقبل کے وزیر اعظم کے امیدوار ہونے کے سوال پر امت شاہ نے کہاکہ یہ فطری ہے۔ اس کے بعد انہوں نے یوگی حکومت کے تمام مثبت کاموں کو یاد دلایا۔ لیکن وہ اصل سوال سے بھٹک گئے۔










