نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر دیر رات گیے پہلوانوں اور پولیس کے درمیان مبینہ ہاتھا پائی کے بعد احتجاج نے سنگین صورت اختیار کرلی ہے ،ماحول میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ،پولیس نے بیریکیڈنگ بڑھادی ہے اس دوران بجرنگ پونیا نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے امت شاہ سے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے مطالبات کو فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس خط میں بجرنگ پونیا نے 3 مئی کی رات دہلی پولیس اہلکاروں کی طرف سے کی گئی مبینہ ہاتھا پائی اور جھگڑے کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے پہلوانوں پر حملہ کیا اور دو پہلوانوں کے سر توڑ دیئے۔ اولمپین ونیش پھوگاٹ کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور ساکشی ملک اور سنگیتا پھوگاٹ کے ساتھ بدتمیزی کی گئی
انہوں نے خط میں لکھا کہ ہم اولمپین اپنے مطالبات کے لیے دہلی کے جنتر منتر پر 11 دنوں سے پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ 3 مئی کو رات 11 بجے کے قریب جب ہم اپنے رات کے آرام کے انتظامات کر رہے تھے، دہلی پولیس کے اے سی پی دھرمیندر نے 100 پولیس والوں کے ساتھ ہم پر حملہ کیا۔ اس حملے میں دشینت پھوگاٹ اور راہل یادو کا سر پھوڑ دیا گیا۔
خط میں لکھا ہے کہ پولیس افسر نے ونیش پھوگاٹ کے ساتھ بدسلوکی کی۔ اس کے ساتھ ہی ساکشی ملک اور سنگیتا پھوگاٹ کو بھی مرد پولیس اہلکاروں نے زدوکوب کیا۔ بین الاقوامی ریسلرز پر اس طرح حملہ کرنا اور ان کی تذلیل کرنا کھلاڑیوں کے حوصلے کو توڑنے اور ملک کی شبیہ خراب کرنے والا ہے
خط میں مطالبے کیے گئے ہیں کہ واقعہ کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری سخت کارروائی کی جائے، احتجاج کے مقام پر کم از کم ضرورت کی چیزیں، مثلاً واٹر پروف خیمے، مضبوط سٹیج، بیڈ، ساؤنڈ سسٹم، گدے اور پریکٹس کے لیے ریسلنگ میٹ اور جم کا سامان لانے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہہ مختلف مقامات سے حراست میں لیے گئے تمام ساتھیوں کو فوری رہا کیا جائے اور مطالبات پر حکومت کے اعلیٰ حکام سے جلد مذاکرات کیے جائیں







