نئی دہلی:
حال ہی میں مرکزی وزیر بنائے گئے مغربی بنگال کے کوچ بہار سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ نیستھ پرمانک کی تعلیمی قابلیت کو لے کر تنازع کھڑا ہو گیا ہے ۔ پرمانک کے ذریعہ تعلیم سے متعلق اپنے انتخابی حلف نامے اور پارلیمنٹ کو دی گئی جانکاری میں تضاد سامنے آیاہے ۔
نیسیتھ پرمانک کو مرکزی وزارت داخلہ میں وزیر مملکت برائے داخلہ بنایا گیا ہے ، جو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے جونیئر ہیں۔
دی وائر کی رپورٹ کےمطابق 35 سالہ پرمانک جنہوں نے حال ہی میں بنگال اسمبلی انتخاب لڑا تھا اور جیت گئے تھے، لیکن اپنی لوک سبھا کی رکنیت برقرار رکھنے کے لیے استعفیٰ دے دیا ، نے دونوں حلف ناموں میں اپنی اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے طور پر ثانوی امتحان یا سیکنڈری تعلیم لکھا تھا ۔ انہوں نے اسمبلی انتخاب کے لیے 18 مارچ 2021 اور لوک سبھا انتخاب کے لیے 25 مارچ 2019 کو حلف نامہ دائر کیا تھا۔
حالانکہ لوک سبھا ویب سائٹ پر پرمانک کی پروفائل میں کہا گیا ہے کہ ان کی تعلیمی قابلیت ’ بیچلر آف کمپیوٹر اپیلی کیشن‘ ( بی سی اے) ہے، جو انہوں نے بالا کورا جونیئر بیسک اسکول سے حاصل کیاہے ۔
بی سی اے تین سال کا انڈرگریجویٹ کورس ہے ، جس کے لئے ہائر سیکنڈری یا بارہویں پاس کرنا لازمی ہے۔ کوچ بہار ضلع کے ترنمول کانگریس ( ٹی ایم سی ) کے کئی لیڈروں نے اسے ایک بہت بڑی بے ضابطگی بتایا ہے ۔
بنگال کے کسی بھی سینئر لیڈر نے ان کی تعلیمی لیاقت کے تنازع پر یہ کہتےہوئے تبصرہ کیا کہ نیستھ پرمانک اس کا جواب دینے کے لیے سب سے بہتر شخص ہیں، پرمانک نے اپنے 2019 کے حلف نامےمیں بتایا تھا کہ ان کے خلاف 11کیس ہیں اور 2021 میں بتایاکہ ان کے خلاف 13 کیس چل رہے ہیں، جس میں قتل، ڈکیتی ،چوری اور دھماکہ خیز مادہ رکھنے کے الزام شامل ہے ۔










