اردو
हिन्दी
اگست 18, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اے ایم یوکااقلیتی کردار:دستور کےتقاضوں اور ہندوؤں کے جذبات کی کشمکش:ایک نکتہ نظر

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
147
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ:عدیل اختر
یہ غالباً دو یا تین سال پہلے کی بات ہے ، سپریم کورٹ کے ہی کسی جج نے کہا تھا کہ جب تک موجودہ سنودھان ہے ہم اسی سنودھان کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے پابند ہیں، لوگوں کو ان کے سنویدھانک ادھیکاروں سے ونچت نہیں کیا جاسکتا ۔ سپریم کورٹ کے جج کا یہ ریمارک عدالتوں کی اس دقت کا اظہار ہے کہ ایک طرف ججوں کی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں اور دستوری تقاضے ہیں، دوسری طرف "قوم کا اجتماعی ضمیر” ہے تو وہ کیا کریں! "قوم کے اجتماعی ضمیر” کی یہ اصطلاح خود سپریم کورٹ کے ججوں کی ہی وضع کردہ ہے۔ ایک موقع پر ایک ملزم کو مجرم ٹہرانے کے بعد پھانسی کی سزا سناتے وقت عدالت عالیہ کے معزز جج صاحب (یا صاحبان) نے کہا تھا کہ "قوم کا اجتماعی ضمیر” اس کا تقاضا کرتا ہے کہ اس قصوروار کو پھانسی دی جائے ۔
قوم کا یہ اجتماعی ضمیر اصل میں اکثریتی فرقے کا اجتماعی ضمیر ہے ۔ اور اکثریتی فرقہ کا مطلب ہے ہندو قیادت، جس میں مذہبی و سماجی دونوں طرح کی، اور گاؤں سے لیکر ملک گیر سطح تک کی قیادیں، نیز جاتی سے لے کر پورے سمپردائے کی بنیاد پر بنی انجمنیں سب شامل ہیں ۔ یہ ہندو قیادت ہندو ضمیر کی ترجمانی کرتی ہے اور اس ہندو ضمیر کو ہر ہندو سنتا، سمجھتا اور پڑھتا ہے لیکن سیاست کی زبان میں اسے قوم کا اجتماعی ضمیر کہا جاتا ہے ۔ جس طرح اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ رام مندر کا نرمان راشٹر کی بھاؤنا کا پرکٹی کرن ہے ۔
اعلیٰ عدالتوں، خاص طور سے سپریم کورٹ، کے غیر جانب دار یا انصاف پسند جج صاحبان اس ” اجتماعی قومی ضمیر” اور عدالت کی دستوری روح کے درمیان ایک کشمکش میں ڈانواڈول نظر آتے ہیں ۔مسلمان بنام ہندو یا مسلمان بنام حکومت معاملوں میں یہ مبینہ اجتماعی قومی ضمیر اکثر و پیشتر انصاف کے تقاضوں پر غالب آتا ہے ۔ شاید ایسے کسی بھی قضئے میں مسلمانوں کی کبھی کوئی جیت نہیں ہوئی ہے ۔ بابری مسجد کا تو ہر مقدمہ انصاف کے بجائے ہندوؤں کے اجتماعی ضمیر کی بنیاد پر ہی فیصل ہوا ہے ۔ چنانچہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے مقدمے کے سپریم فیصلے میں بھی دستور کی روح اور قوم کے اجتماعی ضمیر کی کشمکش دیکھی جاسکتی ہے ۔ دستور و قانون کا غیر جذباتی فیصلہ تو یہ ہے کہ اقلیت کو اپنے نجی تعلیمی ادارے قائم کرنے اور خود انہیں چلانے کا حق ہے، اور مسلم یونیورسٹی کی تاسیسی بنیادیں یہ ناقابل تردید ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ اسے مسلمانوں نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لئے از خود قائم کیا تھا اور 1920 میں ان کے ہی مطالبے پر، ان کے جمع کردہ فنڈ کی بدولت حکومت وقت نے اسے آئینی طور سے یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا ۔ لیکن اکثریتی فرقہ کا اجتماعی ضمیر اسے آزادی کے بعد سے ہی حکومت کے ہاتھوں میں لینے کا تقاضا رکھتا ہے ۔ چنانچہ جیوری نے دستور و آئین کی اور ثبوتوں کی بنیاد پر تو یہی فیصلہ دیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک اقلیتی ادارہ تھا اور اس کا کردار ختم نہیں ہوا ہے ، عدالت عالیہ کےجس فیصلے کی رو سے اس کو اقلیتی ادارہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا وہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے ۔
لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ حکم بھی لگادیا ہے کہ یونیورسٹی کا اقلیتی کردار آئندہ بھی بنے رہنا چاہیۓ یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی اور اس کے لئے ایک سہ رکنی بینچ قائم کی جائے گی ۔ یہ بات بادی النظر میں ٹھیک ایسی ہی معلوم ہوتی ہے جیسے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے دیتے وقت عدالت نے کہی تھی۔ یہ کہ بابری مسجد ایک مسجد ہی تھی، مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی ، اس کا ڈھایا جانا ایک غیر قانونی مجرمانہ عمل تھا ۔ لیکن اس جگہ سے چوں کہ ہندوؤں کی عقیدت وابستہ ہے اور رام ہندوؤں کے دیوتا ہیں اس لئے یہ جگہ رام للا کی ملکیت قرار دی جاتی ہے ۔ یہ انصاف کی پکار پر ہندو ضمیر کی فتح تھی۔ لہذا اب یہ دیکھنا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معاملے میں انصاف ، دستور اور حق کو اوپر رکھا جائے گا یا ہندؤوں کے اجتماعی ضمیر کی آواز پر فیصلہ ہوگا ۔
(نوٹ:یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں )

ٹیگ: AligarhAligarh Muslim UniversityAMUMinority status

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN