اندور میں کوچنگ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ایک 18 سالہ طالب علم کی موت ہو گئی۔ پڑھائی کے دوران اسے دل کا دورہ پڑا اور وہ اپنے دوستوں کے سامنے مر گیا۔ امراجالا کی رپورٹ کے مطابق معاملہ بھنورکوان میں واقع کوچنگ کا ہے۔ طالب علم اندور میں کرائے کے کمرے میں پڑھتا تھا۔وہ ساگر کا رہنے والا تھا۔ طالب علم کا نام راجہ لودھی ہے۔ اس کے والد پی ایچ ای میں انجینئر ہیں اور بڑا بھائی موبائل کا کاروبار چلاتا ہے۔ راجہ افسر بننا چاہتا تھا۔ بھنورکوا پولیس نے بتایا کہ طالب علم یہاں پی ایس سی کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ ساگر کے ایک کالج سے بی اے فائنل ایئر بھی پڑھ رہا تھا۔ بدھ کی دوپہر جب وہ کوچنگ کے لیے آیا تو وہ بالکل ٹھیک تھے لیکن پڑھائی کے دوران اس کی صحت بگڑ گئی۔ دوست اسے فوراً قریبی ہسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے اسے ایمرجنسی میں داخل کر کے علاج شروع کر دیا۔ اس کو آی سی یو میں رکھا گیا تھا لیکن بدھ کی شام ان کا انتقال ہوگیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اسٹوڈنٹ کے اہل خانہ اسپتال پہنچے۔ اہل خانہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ انہیں مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم نہیں کر رہا ہے۔ طالب علم کے خاندان میں ایک بڑا بھائی ہے جو موبائل کا کاروبار کرتا ہے۔ یہ سبھی کوچنگ سینٹر پہنچے اور کوچنگ آپریٹرز سے بات کی۔ طالب علم کے والد پی ایچ ای ڈیپارٹمنٹ میں ہیں۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ اسپتال بھیج دیا ہے۔









