چیف جسٹس آف انڈیا چندرپور چوڑ کافی عرصہ سے خاص گروپ کے نشانے پر ہیں اور کسی نہ کسی بہمہ سے ان کو ٹرول کیا جاتا ہے -اب ایک خط ان کے نام سے وائرل ہورہا ہے جو ان کی امیج کو متاثر کرنے والا ہے -سپریم کورٹ نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کے نام سے سوشل میڈیا پر غلط پیغام پھیلایا جا رہا ہے۔
پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹیں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جن میں چیف جسٹس کا نام ان کی فائل فوٹو کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے عوام سے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی گئ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ فیک پوسٹ کتنی خطرناک ہے۔
عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹ فرضی ہے اور اسے غلط نیت سے پھیلایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی طرف سے ایسا کوئی مراسلہ جاری نہیں کیا گیا ہے اور اس پیغام کو پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ قانون سے متعلق نیوز سائٹ بار اینڈ بنچ (bar&bench)کے مطابق چیف جسٹس کے نام سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم ہندوستان کے آئین اور ہندوستان کی جمہوریت کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن اس میں آپ کا تعاون بھی ہے۔ ضروری ہے۔”
"تمام لوگوں کو متحد ہو کر سڑکوں پر نکلنا چاہیے اور اس حکومت سے اپنا حق مانگنا چاہیے، یہ آمرانہ حکومت لوگوں کو ڈراے گی، دھمکیاں دے گی، لیکن آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، حوصلہ رکھیں اور حکومت سے حساب مانگیں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ایم ڈی وائی چندر چوڑ، چیف جسٹس۔
لیکن سپریم کورٹ نے اب واضح کر دیا ہے کہ یہ پوسٹ فرضی ہے۔ واضح جب سے جسٹس چندرپور چوڑ نے عہدہ سنبھالا ہے ان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم مختلف بہانوں سے جاری ہے







