اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا عوام حکومت کے دشمن ہیں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کیا عوام حکومت کے دشمن ہیں
71
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر :ارونا رائے

ترجمہ :نایاب حسن

1968ء میں اجیت ڈوبھال انڈین پولیس سروس سے وابستہ ہوئے، اسی سال میں نے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (IAS) میں شمولیت اختیارکی۔ ٹریننگ اہم تھی اور سب نے لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن میں ایک ہی فاؤنڈیشن کورس کیا۔ "زیرتربیت سول سرونٹس” میں باہمی اختلافات ہوتے ہیں؛ لیکن بغیر کسی استثنا کے، ہر کوئی جو سول سروسز میں شامل ہوتا ہے، وہ ہندوستانی آئین کا حلف لیتا ہے۔ یہ حلف نامہ قابلِ ذکر ہے:’’میں … حلف لیتا ہوں ؍ تاکید کے ساتھ اقرار کرتا ہوں کہ میں ہندوستان اور ہندوستان کے آئین کے تئیں جو قانون کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے،وفادار رہوں گا، ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کو برقرار رکھوں گا اور اپنے دفتر کے فرائض دیانت داری، ایمان داری اور غیر جانبداری سے سرانجام دوں گا۔ (خدا ہمارا حامی و ناصر ہو)‘‘۔

ٹریننگ کے دوران کی بہت سی چیزوں سے مجھے اختلاف تھا؛ لیکن ایک چیز جو مجھے عزیز ہے اور جسے سات سال IAS میں رہ کر سبک دوش ہوجانے کے بعد بھی میں اپنے ساتھ رکھتی ہوں، وہ آئینی اقدار کے تحفظ کے تئیں سرکاری ملازم کو حاصل شدہ واضح مینڈیٹس ہیں، جن میں کمزورطبقات کے لیے ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کی اہمیت بھی شامل ہے۔ اکیڈمی میں ہماری ٹریننگ کے ساتھ ساتھ سروس کے دوران بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ دیانت داری اور غیر جانب داری کے اصولوں کو صرف آئینی تناظرمیں ہی صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ آئین نے یہ واضح کیا ہے کہ منتخب انتظامیہ ان مینڈیٹس سے تجاوز نہیں کر سکتی اور ہر سرکاری ملازم اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کی کبھی خلاف ورزی نہ ہو۔

مگر جب قومی سلامتی کے مشیر ڈوبھال 11 نومبر کو پاس آؤٹ ہونے والی پریڈ کے مہمان خصوصی کے طور پر حیدرآباد پولیس اکیڈمی پہنچے، تو انھوں نے من مانے طور پر جنگ اور قومی سلامتی کا ایک نیا’سیاسی‘ نظریہ پیش کیا، جس میں ہندوستان کے لیے خطرناک مضمرات اور اندیشے پائے جاتے ہیں۔

انھوں نے نئے پولیس افسران کو خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ جنگ کی نیا محاذِ جنگ،جسے آپ فور جی وار (Fourth-generation warfare) کہتے ہیں،وہ سول سوسائٹی ہے۔ اب جنگیں سیاسی و عسکری مقاصد کے حصول کا مؤثر ذریعہ نہیں رہیں۔ یہ بہت مہنگی ہوگئی ہیں اور ان کا بار نہیں اٹھایا جاسکتا،ان کے نتائج کے بارے میں بھی کچھ یقینی نہیں ہوتا ؛لیکن سول سوسائٹی کو برباد کیا جاسکتا ہے،اسے زیر کیا جاسکتا ہے،اسے بانٹا جاسکتا ہے اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ کھلواڑ کیا جاسکتا ہے،وہاں اس کی مکمل حفاظت کے لیے آپ کو موجود رہنا ہے‘‘۔

ڈوبھال نے اس سول سوسائٹی کی کوئی تشریح نہیں کی،جس سے وہ اپنے افسروں کو لڑانا چاہتے ہیں،نہ انھوں نے اس کی وضاحت کی کہ انھیں ہمارے عوام کے خلاف’’فورجی وار‘‘ چھیڑنے کا اختیار کس نے دیا،انھیں اپنی باتوں کی مزید وضاحت کرنی چاہیے تھی۔ یہ ایسا نظریہ ہے جو سیاسی مقتدرہ اور پرائیویٹ سیکٹر کی کوششوں کو تعمیرِ ملک کے عناصر کے طور پر جواز عطا کرتا ہے اور منظم شہریوں (سول سوسائٹی) کے ذریعے کی جانے والی تنقید و اعتراض کو ترقی و قوم پرستی کے لیے نقصان دہ باور کراتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ ڈوبھال دستورمیں دی گئی جمہوری،سماجی اور ترقی سے متعلق دی گئی ضمانتوں کا دائرہ محدود کرنا چاہتے ہیں۔

۱۹۷۵ میں آئی اے ایس چھوڑ کر میں نے سماجی کارکن بننے اور یہ سیکھنے اور جاننے کا فیصلہ کیا کہ انصاف و مساوات سے متعلق آئینی اقدار کو کیسے ہندوستانیوں کی سیاسی و معاشرتی زندگی میں بھی مؤثر ہونا چاہیے۔ میرے قابلِ تعریف ساتھیوں،مہمات اور تحریکوں نے ایک آزاد ملک کی بنیاد رکھنے میں دیانت داری کے ساتھ حصہ لیا ہے،انھیں کسی عہدہ یا منفعت کی جستجو نہیں تھی۔ جدوجہدِ آزادی سے تحریک پا کرشہریوں کے مختلف گروہوں اور سماجی کارکنان نے آئین کے اصولِ آزادی،مساوات،انصاف،اخوت و وقار پر مبنی ترقی و جمہوریت سے متعلق مسائل پر مسلسل کام کیا اور انھیں متاثر کرنے والوں پر نظر بنائے رکھی ہے،شاید موجودہ حکومت کو اسی سے تکلیف ہے۔

ہمیں ہندوستانی قوم کے لیے ممکنہ خطرہ کے طور پر نشانہ بناتے ہوئے ڈوبھال نے انڈین پولیس سروس کے پورے نئے بیچ پر زور دیا ہے کہ وہ "سول سوسائٹی” کو ممکنہ دشمن کے طور پر دیکھیں، جس کے ساتھ نئی ’’فورجی جنگ” لڑنی ہے۔ اس وقت وہ شاید ہمارے بَیچ کے واحد ایسے شخص ہیں جو کابینی وزیر کے سٹیٹس کے ساتھ ہندوستانی قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر عوامی عہدے پر فائز ہیں۔ فورجی جنگ اور سول سوسائٹی کو لاحق خطرے کے بارے میں ان کے ذاتی خیالات کچھ بھی ہوں، مگر ایک پبلک سروینٹ کے طور پر ہم میں سے باقی تمام لوگوں سے زیادہ وہ آئین کے پابند ہیں۔ مجھے آئین میں ایک بھی ایسا جملہ نہیں ملتا، جو ڈوبھال کو "سول سوسائٹی” پر بندوق تاننے کا جواز عطا کرتا ہو۔ درحقیقت ایک سینئر مشیر کے طور پر اگر وہ آئین کے ذریعے طے کردہ تصورِ ہندوستان کے حقیقی مخالفین کی بجاے ہندوستان کی سول سوسائٹی کے خلاف داخلی جنگ لڑنا چاہتے ہیں، تو وہ ملکی سلامتی کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوگا۔

ایسا لگتاہے کہ ایک سیاسی منصب دار کے طور پر ڈوبھال نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے والا ہر شخص ملک کے لیے خطرہ ہے۔ یہ ملک کے اندر کے مخالفین ہیں، جنھیں دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت میں صحت و معتبریت کی سند صرف منتخب حکومت اور اس کے ذریعے پاس ہونے والے قوانین کو حاصل ہے۔ وہ اسی تقریر میں آگے کہتے ہیں: ’’جمہوریت کی اصل حقیقت بیلٹ باکس میں نہیں ہوتی، یہ ان قوانین میں مضمر ہوتی ہے، جو ان بیلٹ باکسز کے ذریعے منتخب ہونے والے لوگ بناتے ہیں‘‘۔ اور بلاشبہ’’قوم‘‘ اور’’قوم پرستی‘‘ کی طرح منتخب ایگزیکٹیو کا سیاسی نظریہ اس طرح ’’قانون کی حکمرانی‘‘ کو طے کرنے والا ادارہ بن جاتا ہے۔

موجودہ حکومت کا یہ ایک سوچا سمجھا طرزِ عمل ہے۔ جنرل بپن راوت، جو مسلح افواج کے پہلے سربراہ مقرر کیے گئے تھے، انھوں نے ٹائمز ناؤ چینل پر کھلے عام اعلان کیا کہ "جموں و کشمیر کے مقامی لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کی لنچنگ کر دیں گے، جو کہ ایک بہت ہی مثبت علامت ہے،اگر آپ کے علاقے میں کوئی دہشت گرد سرگرم ہے، تو آپ اسے کیوں نہ ماریں؟” گویا جنرل راوت ہجومی تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ ہجوم ہی طے کرے کہ دہشت گرد کون ہے اور پھر "سزا”دینے کا فیصلہ بھی خود ہی کرلے۔ کیا یہی "قانون کی حکمرانی” ہے؟ اسی طرح نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آرسی)، جس کی سربراہی سیاسی طور پر منتخب شخص کررہے ہیں، انھوں نے حال ہی میں مرکزی پولیس دستوں کے ساتھ ایک مناقشے کا اہتمام کیا، جس میں پوچھا گیا: ’’کیا انسانی حقوق دہشت گردی اور نکسل ازم جیسی برائیوں سے لڑنے میں رکاوٹ ہیں؟‘‘۔ قانونی ضمیر کا محافظ ادارہ ایک مباحثے کا اہتمام کرتا ہے ، جس میں یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا ’’انسانی حقوق” ( جو قانونی طورپر اس ادارے کے وجود کی وجہ ہے ) ایک ’’رکاوٹ‘‘ ہے؟

یہ سب دراصل ہمارے اپنے لوگوں پر،ملک کے عوام پر ایک خطرناک حملہ ہے۔ یہ ہمارے آئین، جمہوریت اور شہریت کو مجروح کرنے والے اندھادھند ناانصافی پر مبنی مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر یہ سیاسی نظریہ اصل تصورِ ہندوستان کو کمزور کررہا ہے۔ حالاں کہ موجودہ یا کسی بھی دوسری منتخب حکومت پربہت اہم جمہوری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہر حکومت آئین کی پابند ہوتی ہے، نہ تو وہ اس سے پیچھے ہٹ سکتی ہے اور نہ ہی نظرانداز کر سکتی ہے۔

(نوٹ،یہ مضمون این ایس اے اجیت ڈوبھا ل کے حالیہ بیان کی روشنی میں لکھا گیاہے )

بشکریہ انڈین ایکسپریس

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN