دیوبند(سمیر چودھری)
گزشتہ ہفتے اترپردیش اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتار کئے گئے معروف مبلغ اسلام مولانا کلیم صدیقی کی حمایت میں مختلف مکتبۂ فکر اور سماجی وسیاسی حلقوں سے آواز بلند کی جارہی ہیں اور مولانا کے خلاف اے ٹی ایس کی کارروائی کو اترپردیش کی یوگی حکومت کے اشارے پر اٹھایاگیا اقدام قرار دیا جارہاہے،اتنا ہی نہیں بلکہ اس پورے معاملہ کو اترپردیش میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کا پیش خیمہ بتایا جارہاہے۔
اسی معاملہ کو لیکر نوجوان دلت لیڈر اوربھیم آرمی کے چیف و آزاد سماجی پارٹی کے قومی صدر چندر شیکھر آزاد نے بھی مولانا کلیم صدیقی کی حمایت کرتے ہوئے اس کارروائی کو سراسرنا انصافی قرار دیتے ہوئے یوپی کی یوگی حکومت پر نشانہ سادھا اور کہاکہ یوگی حکومت انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کو ٹارگیٹ کررہی ہے۔ آزاد سماج پارٹی کے قومی صدر ایڈوکیٹ چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ بی جے پی کے پاس الیکشن لڑنے کا کوئی مدعیٰ نہیں ہے، وہ انتخابات جیتنے کے لیے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور مولانا کلیم صدیقی کی گرفتار ی اسی سازش کا ایک حصہ لیکن اب اترپردیش میں فرقہ وارانہ تصادم نہیں ہونے دیا جائے گا۔دیوبند کے متصل قصبہ نانوتہ میں دہلی-یمونوتری قومی شاہراہ پر چندرشیکھر آزاد کاگزشتہ روزو کارکنان نے گلپوشی کرکے شاندار استقبال کیا۔
اس دوران چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ انتخابات کارکنوں کی بنیاد پر ہی لڑے جاتے ہیں، اگر کار کنان محنت کریں گے تو ان کے سامنے کوئی نہیںٹِک سکے گا۔ اْنہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ساڑھے چار سال کی مدت میں کوئی کام نہیں کیا ہے۔ بوکھلائی بی جے پی حکومت نے مولانا کلیم صدیقی کو زبردستی جیل بھیجنے کا کام کیا ہے۔ جس کے پیچھے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کی سازش ہے، انہوں نے کہاکہ حکومت چاہتی ہے اس طرح کی کارروائیوں کے خلاف مسلمان سڑک پر آئیں اور پولیس کو حکومت کے اشارے پر ان پر گولی چلانے کا موقع مل جائے ، تاکہ ریاست کا ماحول خراب ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اتر پردیش کو دوبارہ فسادات کی ریاست نہیں بننے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک بے گناہ شخص کو جیل بھیجنا بھی جرم ہے، ہم اس کے لیے لڑیں گے ،آزاد سماج پارٹی کسی بھی نا انصافی کو برداشت نہیں کر ے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا قانون تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے مذھب کی تشہیر کی اجازت دیتا ہے ،اس طرح کی کارروائی آئینی اختیار کے منافی ہے۔ اس دوران پارٹی کے درجنوں کارکنان موجود رہے۔










