پیلی بھیت :(ایجنسی)
سابق وزیر اعلیٰ اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے پیلی بھیت شہر کے ڈرمنڈ کالج گراؤنڈ میں بی جے پی پر کئی سیاسی حملے کیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل انجن والی حکومت کے دور میں اگر کچھ ڈبل ہوا ہے تو وہ مہنگائی اور کرپشن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا چھوٹا لیڈر چھوٹا جھوٹ بولتا ہے، ان سے بڑا لیڈر بڑا جھوٹ بولتا ہے اور سب سے بڑا لیڈر تو سفید جھوٹ بولتا ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ کاکا چلے گئے اور اب بابا بھی چلے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاکا کا مطلب ہے تین کالے زرعی قوانین جو کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے ختم ہو گئے۔ اب بابا (وزیراعلیٰ) بھی چلے جائیں گے۔ اب انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ سی ایم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا، ‘اب وہ الیکشن لڑنے کے لیے اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ایس پی نے پہلے اور دوسرے مرحلے میں سنچری بنائی ہے۔ تیسرے اور چوتھے مرحلے میں مزید ایک سنچری مکمل کی جائے گی۔ آخری مرحلہ آنے تک ایس پی کو اقتدار میں اکثریت مل جائے گی۔
کسان اور نوجوان ان کی بھاپ نکال دیں گے
انہوں نے کہا کہ اگر آزاد بھارت میں کہیں جلیاں والا واقعہ ہو اتو وہ لکھیم پور میں ہوا۔ کسانوں کو کچل دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ گرمی نکال دیں گے لیکن کسان اور بے روزگار نوجوان اس بار ان کی بھاپ نکال دیں گے۔ ایس پی سربراہ نے کہا، ‘بی جے پی والے کہتے تھے کہ کسان کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی؟ کیا کسی کی آمدنی دوگنی ہو گئی ہے؟ آمدنی دوگنی کرنے کا خواب دیکھایا اور پیداوار لوٹ لی گئی۔ دھان کی لوٹ ہوئی۔ ڈیزل-پٹرول مہنگا ہو گیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ غریب اور چپل پہننے والا بھی ہوائی جہاز میں جائے گا، لیکن کیا ایسا ہوا؟ اپنی کھیتی کو بچائیں۔ ورنہ خفیہ طور پر وہ پھر کوئی قانون لا سکتے ہیں۔
گئوشالائیں بنوائی گئیں لیکن پیسہ بی جے پی والے کھا ئیں گے
آوارہ جانوروں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے اکھلیش یادو نے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر گئوشالہ بنائی تو اس کا سارا پیسہ بی جے پی والے کھا گئے، لیکن وزیر اعلیٰ اپنے پسندیدہ جانور پکڑ نہیں پا رہے ہیں۔ اس لیے ایس پی نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر کسی کو سابڈنے مارا ہے تو اسے پانچ لاکھ روپے معاوضہ دیاجائے گا۔ انہوںنے خود کو کسانوں، نوجوانوں ، بے روزگاروں اور بنگالی سماج سےجوڑا ۔ انتخابی منشور کے وعدے دہرائے۔
پرانی پنشن دلائیں گے
اکھلیش یادو نے پرانی پنشن دلانے، گنے کی ادائیگی 15 دنوں میں کرانے، ایم ایس پی پر پیداوار خریدنے اور بنگالی سماج کے مسائل حل کرنے، سیاحت کو فروغ دینے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کہا- جب سے ایس پی نے عام آدمی کو 300 یونٹ اور کسانوں کو مفت بجلی دینے کا اعلان کیا ہے، تب سے بی جے پی کی بجلی ناکام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی کی حکومت آئی تو 11 لاکھ خالی آسامیاں پُر کی جائیں گی۔










