پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان پر جمعرات کو فائرنگ کی گئی جس میں ان کی ٹانگ میں گولی لگی۔ یہ فائرنگ وزیر آباد شہر میں عمران خان کے لانگ مارچ کے دوران ہوئی۔
اس حملے میں عمران خان بال بال بچ گئے تاہم اب تک ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عمران خان پر حملے کا دنیا بھر میں چرچا ہے اور کئی رہنماؤں اور ممالک نے اس کی مذمت کی ہے۔
ملک سے لے کر بیرون ملک میڈیا میں عمران خان پر حملے کا چرچا ہے۔
سنجے بارو انگریزی اخبار ‘دی انڈین ایکسپریس’ کے لیے لکھتے ہیں کہ عمران خان پر حملہ نومبر میں پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ کی طرح ہے۔
سنجے بارو سینئر صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر بھی رہ چکے ہیں۔ پاکستان کے قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے صدر عمران خان وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے اور ملک میں انتخابات کرانے کے لیے لانگ مارچ کر رہے ہیں۔
عمران خان کے لانگ مارچ کے علاوہ پاکستان میں نومبر کا مہینہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ملک کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت بھی اسی ماہ میں ختم ہونے والی ہے۔
سنجے بارو نے اپنے مضمون میں سوال کیا کہ کیا عمران خان اسلام آباد کا محاصرہ کر سکیں گے؟ کیا باجوہ ریٹائر ہو جائیں گے اور کیا پاکستان کی سیاست میں فوج کا غلبہ ایک بار پھر نظر آئے گا؟
وہ یہ شکوک بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور فوج اس کھیل میں صرف پیادے ہیں جب کہ اصل کھلاڑی چین، امریکہ، ترکی اور سعودی عرب ہیں؟
سنجے بارو یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ پاکستان پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہے، تو کیا آئندہ چند ہفتوں میں سیاسی عدم استحکام معیشت پر بھی اثر انداز ہوگا؟ جب ملک کے اہم اداروں کو چیلنجز کا سامنا ہے تو ایسے میں عدلیہ کا کردار کیا ہوگا؟
سنجے بارو جو سب سے اہم سوال اٹھاتے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان میں افراتفری اور اٹھا پٹخ کا اثر علاقائی سلامتی پر بھی پڑے گا؟








