اردو
हिन्दी
اگست 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عطار کا لونڈا یا لڑکا؟ تحریر:حامد میر

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
37
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

جب ہر طرف انتشار اور بے یقینی کے سائے لہراتے نظر آئیں تو خوشی منانا مشکل ہو جاتا ہے۔ عید جیسا تہوار بھی مجبوریوں کا ہاربن جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں شاعر اور ادیب کا لہجہ سخت ہو جاتا ہے اور اگر وہ میر تقی میر کی طرح تند مزاج ہو تو دیوانہ یا فسادی قرار پاتا ہے۔ میر تقی میر کی زندگی شورشوں اور فتنہ و فساد میں گھری رہی۔ وہ گوشہ عافیت کی تلاش میں آگرہ، لکھنؤ اور دہلی کے درمیان بھٹکتے رہے۔
 یہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور تھا۔ ہندوستان میں راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کی بہتات تھی جنہو ں نے شہر شہر اپنی اپنی حکومتیں قائم کر رکھی تھیں۔ ان کی نااتفاقی کا فائدہ اٹھا کر کبھی نادر شاہ دہلی پر حملہ کرتا اور کبھی احمد شاہ ابدالی عذاب کی طرح نازل ہوجاتا۔ ہر مہاراجہ اور نواب یہ کوشش کرتا کہ میر تقی میر اس کے دربار سے وابستگی اختیارکرلیں لیکن میر صاحب بڑے بڑے عہدوں پر براجمان چھوٹےلوگوں کی خوشامد کو ضمیر فروشی سمجھتے تھے۔ ایک دن لکھنؤ میں نواب سعادت علی خان کی سواری گزر رہی تھی۔ سواری جہاں جہاں سے گزرتی تو راستے میں بیٹھے لوگ احترام میں اٹھ کھڑے ہوتے۔ میر تقی میر ایک مسجد کے دروازے پر بیٹھے تھے۔ نواب صاحب کی سواری آئی تو میر صاحب کے سوا سب لوگ کھڑے ہوگئے۔ سید انشا اللہ خان انشا اس وقت نواب صاحب کے ساتھ تھے۔
 نواب نے میر تقی میر کی طرف اشارہ کرکے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے۔ انشا نے بتایا کہ یہ ایک متکبر شاعر ہے جس کے پاس کھانے کوتو کچھ نہیں لیکن مزاج میں بڑی تمکنت ہے۔ نواب نے ایک خادم کے ہاتھ خلعت اور ایک ہزار روپے بھجوائے اور ملاقات کی دعوت دی۔ میر صاحب نے بڑے تجاہل عارفانہ کے ساتھ خادم سے کہا کہ یہ روپےمسجد کو دیدو اور خلعت واپس لے جاؤکیونکہ میں کوئی محتاج نہیں ہوں۔
 انشا کو فکر ہوئی کہ میر صاحب کا انکار نواب کے غصے کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا خود میر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ جناب اپنے حال پر نہیں تو عیال پر رحم کیجئے اور بادشاہ وقت کا ہدیہ قبول فرمایئے۔ انشا کے اصرار پر میر صاحب کبھی کبھی دربار جانے لگے لیکن ان کی آپ بیتی ’’ذکرِ میر‘‘میں لکھنؤ والوں سے ناراضی بڑی واضح نظر آتی ہے۔
 میر صاحب نے 1810ء میں لکھنؤ میں وفات پائی لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ اہل لکھنؤ میر تقی میر جیسے بڑے شاعر کی قبر کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ اب لکھنؤ میں میرصاحب کی قبر تو موجود نہیں لیکن اردو زبان کے تمام بڑے شعراء میر تقی میر کی شاعرانہ عظمت کے گن گاتےہیں۔ مرز ا غالب نے ان کے بارے میں فرمایا تھا۔
میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالب
جس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں
میر صاحب کے اشعار کی خصوصیت یہ ہے کہ زمانہ بدل جاتا ہے لیکن ان کے اشعار کی اہمیت اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ ان کے کچھ اشعار کو اتنا زیادہ استعمال کیا گیا کہ ان میں اپنی مرضی کے الفاظ شامل کر دیے گئے اور جب تک میر صاحب کا دیوان آپ کے پاس نہ ہو آپ کو میر تقی میر کے کچھ مقبول اشعار ان کے دیوان میں موجود اشعار سے مختلف نظر آئیں گے۔ ان کا ایک شعر بہت غلط انداز میں بولا جاتا ہے۔
میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
میر تقی میر کے دیوان میں یہ شعر ان کی ایک غزل کے آخر میں کچھ یوں ہے:
ہم فقیروں کو کچھ آزار تمہی دیتے ہو
یوں تو اس فرقے سے سب دعا لیتے ہیں
چاک سینے کے ہمارے نہیں سینے اچھے
انہی زخموں سے دل و جان ہوا لیتے ہیں
میر کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
میر صاحب نے اسی غزل کے آخری شعر میں عطار کے لڑکے سے دوالینے کوبہت بڑی غلطی قرار دیا۔ ان کے کچھ مہربانوں کو عطار پر بڑا غصہ تھا لہٰذا انہوں نے لڑکے کو لونڈا بنا دیا تاکہ عطار کو متنازع بنا دیا جائے۔ عطار دراصل عطر فروش کو کہا جاتا ہے۔ شاید میر صاحب یہ کہنا چاہتے تھے کہ اگر آپ بیمار ہو جائیں تو کسی حکیم یا طبیب کے پاس جائیں عطار کے پاس نہ جائیں اور اگر عطار کے پاس چلے بھی جائیں تو اس کے لڑکے سے دوا نہ لیں۔
 ایک دفعہ عطار کے لڑکے سے دوا لے کر زیادہ بیمار ہو جائیں تو باربار اس کے پاس نہ جائیں۔ اس سادہ سے شعر میں بڑے کام کی بات چھپی ہوئی ہے جو صرف تھوڑی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کو ہی سمجھ آسکتی ہے، میر تقی میر کے زمانے میں بڑے عہدوں پر براجمان چھوٹے لوگوں کو اپنی کمزوریوں اور بیماریوں کی وجہ سے معلوم نہ ہو سکی کیونکہ وہ بار بار کسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے رہے۔ اس دوا میں جھوٹ اور خوشامد کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ یہ بادشاہ اور نواب اپنی جھوٹی انا کے غلام بن جاتے اور کبھی نادر شاہ اور کبھی احمد شاہ ابدالی کے ہاتھوں برباد ہو جاتے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN