رامپور ۔ ( ذیشان مراد علیگ) سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر و سابق کابینہ وزیر محمد اعظم خاں نے آج شہر کی سڑکوں اور بازاروں میں گھوم کر لوگوں سے رامپور میونسپل بورڈ چیئرمین کی نشست پر سماجوادی پارٹی کی امیدوار فاطمہ جبیں کے لئے ووٹ کی اپیل کی ۔ ایک عرصے کے بعد اعظم خاں کو اپنے بازار اور سڑکوں پر دیکھ کر لوگوں کی خوشی دیکھتے ہی بنتی تھی ، لوگوں نے اپنے محبوب لیڈر کا ردا پوشی اور گل پوشی کرتے ہوئے گرم جوشی سے استقبال کیا ۔
سماجوادی پارٹی کے کارکنان کثیر تعداد میں قلعہ کے مشرقی دروازے واقع پان دریبہ پر جمع ہونے، جہاں سے دوپہر تین بجے اعظم خاں نے کارکنان کے ہمراہ پیدل مارچ شروع کیا ۔ سماجوادی پارٹی کا یہ قافلہ بازار کلاں ، عباس مارکیٹ ، جامع مسجد ، بازار صفدر گنج ، بازار نصر اللہ خاں ، کوتوالی ، بازار عبداللہ گنج ، ہاتھی خانہ چوراہا اور میونسپل بورڈ کے سامنے سے گزرتے ہوئے شاہ آباد گیٹ واقع عید گاہ پر اختتام پذیر ہوا ۔ جہاں اعظم خاں نے خود انقلاب زندہ باد ، کوئی نہیں ہے ٹکر میں مت پڑو چکر میں وغیرہ نعرے لگائے ۔
عوامی رابطہ کے دوران اعظم خاں نے لوگوں سے کہا کہ فاطمہ جبیں میری اور آپ کی آبرو ہیں ۔ 4 مئی کو سائیکل کے نشان پر مہر لگا کر ہمیں اپنی آبرو کی حفاظت کرنا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ شب اعظم خاں نے سیفنی اور شاہ آباد پہنچ کر وہاں سماجوادی پارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں منعقدہ جلسوں سے خطاب کیا اور اپنے امیدواروں کے لئے ووٹ کی اپیل کی۔ یہاں پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے اعظم خاں نے کہا کہ میں نے 40 سال کی محنت کے بعد رامپور کی پہچان چاقو سے بدل کر قلم کو بنایا تھا، لیکن اب یہاں 80 لاکھ کا چاقو لگا دیا گیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے سوال کیا کہ کیا چاہتے ہو تمہارے ہاتھ میں چاقو ہو یا پھر قلم۔
اعظم خاں نے کہا کہ رامپور کے لوگوں پر بہت ظلم ہوا ہے ۔ یہاں لوگوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں تھی ۔ میں نے بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا اور جھولی پھیلا کر ایک ایک پیسہ جمع کیا ۔ مانگنے والا کیا لاتا ہے خالی ہاتھ پھیلاتا ۔ اس خالی ہاتھ پر کوئی ووٹ رکھ دیتا تو کوئی نوٹ رکھ دیتا ہے ، کوئی تھوک دیتا تو کوئی انگارہ رکھ دیتا ہے ۔ ان سب کو سمیٹ کر تمہارے بچوں کے لئے خرید کر قلم لایا۔ اعظم خاں نے کہا کہ اگر ہمارے ہاتھ کی قدر نہیں کرو گے تو اگلا ہاتھ پھیلانے والا پیدا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا ہم پر اتنے مقدمات کیوں قائم ہوئے، کیونکہ میں نے تمہارے بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا۔ یونیورسٹی بنوائی اور اسکول کھولا ۔ میں نے چاہا کہ آپ کا بچہ پنکچر لگانے کا کام نہیں کرے ، رامپور کے بچے بھی ڈاکٹر ، انجینئر اور افسر بنیں ۔ اس کے بدلے مجھے کیا ملا جیل کی کوٹھری ، جس میں 27 ماہ تک میں اور میرا بچہ بند رہا ۔ میری بیوی بغل کی کوٹھری میں بند تھی ۔ جیل میں گرنے سے ان کا ہاتھ ٹوٹ گیا تھا لیکن مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں تھی ۔
اعظم خاں نے کہا کہ دنیا تمہاری بربادی کے موقع کی تلاش میں ہے ، سات سمندر پار سے تمہارے ہاتھوں میں قلم دینے کوئی نہیں آئے گا۔ تمہاری اندھیری تقدیر میں اجالا کہاں سے آئے گا؟ تم ہی اپنے راستوں کو طے نہیں کرو گے تو تمہارا راستہ بنانے والا بھی کوئی نہیں آئے گا۔







