رام پور : جیل میں بند اعظم خان کو ایم پی ایم ایل اے عدالت نے جمعرات کو ڈونگر پور کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی ۔ اس کے علاوہ عدالت نے 14 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عدالت نے کل اعظم خان کو مجرم قرار دیا تھا۔ اعظم خان پر ڈونگر پور بستی کو زبردستی خالی کرانے، مارپیٹ، توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور دھمکیاں دینے کا الزام تھا۔ یہ معاملہ 6 دسمبر 2016 کا ہے۔ اس معاملے میں اعظم خان کے خلاف 2019 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ رام پور کی ایم پی ایم ایل اے سیشن کورٹ میں کیس کی سماعت چل رہی تھی۔
رام پور ضلع کے ایم پی ایم ایل اے کورٹ نے کل سابق کابینہ وزیر اعظم خان کو مجرم قرار دیا تھا اور فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ ڈونگر پور کیس میں آج ایم پی-ایم ایل اے خصوصی عدالت (سیشن ٹرائل) کے جج ڈاکٹر وجے کمار نے سزا سنائی۔ اعظم خان اس وقت سیتا پور جیل میں بند ہیں۔ جیل سے ہی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سے ان کی پیشی ہوئی تھی ۔
سرکاری وکیل شیو پرکاش پانڈے نے بتایا کہ مکان کو زبردستی خالی کرواکر اسے گرانے کے معاملے میں رام پور کی خصوصی ایم پی ایم ایل اے عدالت نے ایس پی لیڈر اعظم خان کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے اور 14 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
نیوز۱۸ کے مطابق دراصل ایس پی حکومت کے دور میں ڈونگر پور میں آسرا اواس بنائے گئے تھے۔ اس جگہ پر کچھ لوگوں کے گھر پہلے ہی بنے ہوئے تھے۔ الزام یہ تھا کہ انہیں 2016 میں سرکاری زمین پر ہونے کی بنیاد پر منہدم کر دیا گیا تھا۔ متاثرین نے ڈکیتی کا الزام بھی لگایا تھا۔ 2019 میں جب بی جے پی کی حکومت آئی تو پہلی بار اس معاملے میں رام پور کے گنج تھانے میں تقریباً ایک درجن الگ الگ کیس درج ہوئے۔ الزام ہے کہ ایس پی حکومت میں اعظم خان کے کہنے پر پولس اور ایس پی نے آسرا اواس بنانے کے لیے زبردستی ان کے مکان خالی کروائے تھے۔ وہاں پہلے سے بنائے گئے مکانات کو بھی بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا گیا تھا
نیوز۱۸ کے مطابق پولیس نے تفتیش کے دوران اعظم خان کا نام ان مقدمات میں شامل کیا تھا۔ اعظم خان کے ساتھ برکت ٹھیکدار کو بھی قصوروار مانا گیا ہے۔ ڈونگر پور معاملے میں 12 مقدمات درج کیے گئے تھے۔









