بدایوں:دو بچوں کے قتل کا معاملہ دن بدن پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ اتوار کو جاوید کے والد نے اپنے بیٹے جاوید کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا کہ ان کے دونوں بیٹوں کی موبائل کال ڈٹیلس منظر عام پر لائی جائیں۔ کال کی تفصیلات سے واضح ہو جائے گا کہ واقعہ سے پہلے ساجد کو کس نے بدایوں بلایا تھا۔
امراجالا کی رپورٹ کے مطابق ساجد اور جاوید کے والد بابو خان اتوار کو میڈیا کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ والد بابو خان کا کہنا ہے کہ منگل 19 مارچ کو دونوں بیٹے 3 بجے کے بعد گھر آئے۔ جاوید گھر میں مٹی ڈالنے لگا اور ساجد بیٹھا رہا۔اچانک اس کے موبائل پر کال آئی جس کے بعد ساجد یہ کہہ کر گھر سے نکل گیا کہ وہ موٹر سائیکل بدایوں لے جائے گا۔ تین گھنٹے بعد اطلاع ملی کہ ساجد کی بدایوں میں کسی سے لڑائی ہوئی ہے۔ اس کے بعد جاوید اپنی والدہ نازرین کے ساتھ بدایوں جانے کے لیے بس اسٹینڈ پہنچا۔ وہاں پتہ چلا کہ ونود کے دونوں بیٹوں کا قتل ہو چکا ہے۔
شہر میں افراتفری ہے۔ ساجد کا نام آ رہا ہے۔ اس کے بعد ڈر کے مارے جاوید بھاگ کر دہلی چلا گیا اور نازرین گھر واپس آگئی۔ کچھ ہی دیر میں اعلی پور پولیس گھر پہنچی اور سارا واقعہ بیان کیا۔ پولیس اسے اور بھائی قیام الدین کو اپنے ساتھ لے گئی۔ اب پولیس نے جاوید کو ملزم بنا کر جیل بھیج دیا ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ دونوں بیٹوں کے موبائل فونز کی کال ڈیٹیل حاصل کی جائے اور معلوم کیا جائے کہ ساجد کوکس نے فون کیا تھاُجو سن کر فورس گھر سے نکل پڑا اور کس کس نے اسے فون کیا تو سارا کچا چٹھا سامنے آجائے گا ۔سوال یہ ہے کہ کیا پولیس اسُپہلو سے تفتیش کررہی ہے آخر کیا کوئی اور بات ہے جس کو کوئی چھپا رہا ہے









