رام پور :(آر کےبیورو)
یوپی اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سے پہلے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے لیے اچھی خبر ہے۔ ایس پی کے قدر آور لیڈر اور سابق وزیر محمد اعظم خاں کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے اور بدامنی پھیلانے کے معاملے میں ضمانت مل گئی ہے۔ اعظم خاں کو اس معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ضمانت دے دی ہے۔
معلومات کے مطابق اعظم خاں کے خلاف یہ مقدمہ یکم فروری 2019 کو لکھنؤ کے حضرت گنج پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ اعظم خاں کے خلاف سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے اور بدا منی پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ کیس 2014 کا ہے۔ اعظم خاں کے خلاف حضرت گنج پولیس اسٹیشن نے علامہ ضمیر نقوی کی تحریر کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا تھا۔
اعظم خاں کو اب اس معاملے میں ضمانت مل گئی ہے۔ اعظم خاں نے اس معاملے میں ضمانت کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ اعظم خاں کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ضمانت منظور کر لی۔
اعظم خاں کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ان میں تین سال کی قید ہے۔ تاہم ضمانت ملنے کے باوجود اعظم خاں اب بھی جیل میں ہی رہیں گے۔ جسٹس رمیش سنہا کی بنچ نے اعظم خاں کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ اعظم خاں یوپی کی سیتا پور جیل میں بند ہیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان 10 مارچ کو ہونا ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنی اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہے۔ ایگزٹ پولز میں بی جے پی کی زبردست جیت کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ ایس پی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نتائج کا اعلان 10 مارچ کو ہوگا، صرف ہم ہی حکومت بنائیں گے۔










