اتر پردیش کے بلیا میں ٹرکوں سے غیر قانونی وصولی کے معاملے میں کل بڑی کارروائی دیکھنے میں آئی۔ اے ڈی جی اور ڈی آئی جی کی اس مشترکہ کارروائی سے محکمہ پولیس میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ نارہی کے علاقے میں کی گئی اس بڑی کارروائی میں حکام نے 18 پولیس اہلکاروں اور دلالوں کو حراست میں لیا ہے، تقریباً تین پولیس اہلکار موقع سے فرار ہو گئے جن کی تلاش جاری ہے۔
اس کارروائی کا اثر یہ ہوا کہ حکومت نے ایس پی اور ایڈیشنل ایس پی کا تبادلہ کر دیا اور ڈپٹی ایس پی صدر کو معطل کر دیا گیا۔ حکومت نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اہلکار ایک ٹرک میں کنڈکٹر اور اٹینڈنٹ کے روپ میں پہنچے تھے۔ فوجیوں کو بھتہ لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اس معاملے میں تمام پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یوپی اور بہار کی سرحد پر بلیا کی طرف بکسر اور بہار سے آنے والے ٹرکوں کو روکا گیا تھا اور نارہی تھانہ کے بھرولی تیراہا میں پولیس کی مدد سے کچھ دلالوں کے ذریعے بھتہ وصولی کی جا رہی تھی۔ اس غیر قانونی ریکوری میں تھانے کی یومیہ آمدنی 10 سے 15 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔ ہر ٹرک سے 500روپے کی وصولی کی جاتی تھی جس میں چارسو روپے پولیس اور سوروپے دلال کے ہوتے تھے-لیکن اس معاملے نے خود محکمہ پولیس کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اے ڈی جی اور ڈی آئی جی اپنے ماتحتوں سے بدعنوانی کی شکایات ملنے کے باوجود یوپی کے تمام اضلاع کے تھانوں پر چھاپے کیوں نہیں مارتے؟ یا یہ صرف بدعنوانی سے لڑنے کا ایک شو ہے یا ایک منظم مہم کا آغاز ہے؟
سب جانتے ہیں کہ کرپشن کے خلاف لڑنے والے پولیس افسران تعداد میں کم ہیں؟ جب یوگی حکومت افسران کو فری ہینڈ نہیں دے گی تو بدعنوان کیسے پکڑے جائیں گے؟ ویسے بھی یہ سچ ہے کہ یوگی راج کے تحت ہر محکمے میں بدعنوانی کی شرح بڑھی ہے۔یہ بات بی جے پی کے سینئیر لیڈر موتی سنگھ نے بھی کہی ہے










