مدھیہ پردیش میں ایک بار پھر بی جے پی کی حکومت تشکیل پا چکی ہے۔ اور اس نے آتے ہی پہلا فیصلہ لیا ہے جو مذہبی بندہ کے لئے پریشان کن ہوسکتا ہے۔ موہن یادو نے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لے لیا ہے، اور بدھ کے روز انھوں نے ایک ایسا حکم نامہ جاری کیا جس پر تنازعہ ہونا یقینی ہے۔ انھوں نے مذہبی اور عوامی مقامات پر لاؤڈاسپیکر کا استعمال ممنوع قرار دے دیا ہے۔
مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ 13 دسمبر 2023 کو جو حکم جاری کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ مذہبی قائدین کے ساتھ بات چیت کی جائے گی اور پھر مندروں و مسجدوں سے لاؤڈاسپیکر ہٹانے کی کوششیں شروع ہوں گی۔ حکم کی تعمیل نہیں کرنے والے مذہبی مقامات کی فہرست تیار کرنے کی بات بھی جاری حکم نامہ میں کہی گئی ہے۔
لاؤڈاسپیکر پر پابندی لگانے کی وجہ بتاتے ہوئے حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ اس کے غیر ضروری استعمال سے صوتی آلودگی ہوتی ہے جس سے کام پر توجہ مرکوز کرنے کی انسانی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ دیر رات کے دوران اس کا استعمال ہونے سے لوگوں کی نیند میں بھی خلل پڑتا ہے۔ اس لیے یہ یقینی بنانے کی کوشش ہو رہی ہے کہ لاؤڈاسپیکر یا ڈی جے کا غلط استعمال نہ ہو۔ یہ حکم نامہ مدھیہ پردیش کی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔









