چندی گڑھ: ہریانہ میں کچھ پنچایتوں نے نوح ضلع میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد مسلمانوں کو بے دخل کرنے اور ان کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ دوسری طرف ریاست کی کچھ کھاپ دونوں کمیونٹیزکے درمیان امن قائم کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔ مزید برآں، سروکھپ پنچایت نے کہا کہ وشو ہندو پریشد (VHP) اور بجرنگ دل کی سرگرمیوں پر ریاست بھر کے تمام گاؤں میں پابندی لگائی جانی چاہیے۔
نیو انڈین ایکسپریس (New Indian Express ) کی رپورٹ کے مطابق وہیں، کچھ کھاپ نے کہا کہ تشدد کے بعد حکومت کے اقدامات جائز ہیں۔ ریاست میں 90 سے زیادہ کھاپ ہیں۔ اگلے سال ہونے والے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات سے پہلے ان کے خیالات کی اہمیت ہے، کھاپ دیہاتوں میں کافی اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔
دریں اثنا،حصار کے باس گاؤں میں بھارتیہ کسان مزدور یونین کے بینر تلے ایک مہا پنچایت کا انعقاد کیا گیا جس میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو مضبوط کرنے کی کال دی گئی۔ مہاپنچایت کا اہتمام کرنے والے سریش کوٹھ نے کہا کہ چند لوگوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو گاوں میں داخل نہیں ہونے دیں گے
۔ اخبار کے مطابق سور کھاپ پنچایت کے قومی ترجمان صوبے سنگھ سمین نے بتایاکہ کھاپ کے کے لیڈر آنے والے دنوں میں نوح کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ فی الحال مقامی انتظامیہ اجازت نہیں دے گی۔ ایک بار جب ہمیں اجازت مل جاتی ہے اور حالات معمول پر آجاتے ہیں تو ہم وہاں جائیں گے اور دونوں فرقوں کے مقامی لوگوں سے بات کریں گے اور ان کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ وہ برسوں سے امن سے رہ رہے ہیں،‘‘۔
انہوں نے مزید کہا: "وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل کی سرگرمیوں پر ریاست بھر کے تمام دیہاتوں میں پابندی لگائی جانی چاہئے۔” چونکہ اسمبلی اور لوک سبھا دونوں الیکشن اگلے سال ہونے والے ہیں، سمین نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ سب کچھ کمیونٹیز کو تقسیم کرنے اور اس طرح ووٹروں کو پولرائز کرنے کی ایک بڑی سازش ہے۔
انہوں نے کہا کہ میوات میں امن بحال کرنے کے لیے ایک قرارداد منظور کی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ ایک غیر جانبدارانہ انکوائری کرانے اور مونو مانیسر اور بٹو بجرنگی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپوں پر اکسانے کے لیے اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور ویڈیوز شیئر کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔
کھاپ کے لیڈر آنے والے دنوں میں نوح کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ فی الحال مقامی انتظامیہ اجازت نہیں دے گی۔ ایک بار جب ہمیں اجازت مل جاتی ہے اور حالات معمول پر آجاتے ہیں تو ہم وہاں جائیں گے اور دونوں برادریوں کے مقامی لوگوں سے بات کریں گے اور ان کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ وہ برسوں سے امن سے رہ رہے ہیں،‘‘ سروکھپ پنچایت کے قومی ترجمان سوبے سنگھ سمین نے نیو انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہو ئے یہ باتیں کہیں-
انہوں نے مزید کہا: "وشوا ہندو پریاور بجرنگ دل کی سرگرمیوں پر ریاست بھر کے تمام دیہاتوں میں پابندی لگائی جانی چاہئے۔”چونکہ اسمبلی اور لوک سبھا دونوں انتخابات اگلے سال ہونے والے ہیں، سمین نے شبہ ظاہر کیا کہ یہ سب کچھ کمیونٹیز کو تقسیم کرنے اور اس طرح ریاست کے ووٹروں کو پولرائز کرنے کی ایک بڑی سازش ہے۔








