ڈھاکہ:(ڈی ڈبلیو )بنگلہ دیش میں ڈاکٹروں کے ایک پینل نے خبردار کیا ہے کہ اگر اپوزیشن رہنما خالدہ ضیاء کو مزید علاج کے لیے فوری طور پر بیرون ملک نہ بھجوایا گیا تو ان کے مرنے کا ”زیادہ خطرہ‘‘ ہے۔ ڈاکٹروں کی طرف سے یہ انتباہ بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے خالدہ ضیا کی ملک چھوڑنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔
77 سالہ خالدہ ضیا دو مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔ وہ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ ہیں اور 2020 میں 17 سال کی قید کی سزا سے رہائی کے بعد سے گھر میں نظر بندی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ وہ ذیابیطس اور دل کے مسائل کے ساتھ ساتھ جگر کی سوزش یا سیروسس کے عارضے کا شکار ہیں۔
ان کی حریف وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے گزشتہ ہفتے خالدہ ضیا کے خاندان کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ انہیں جگر کی پیوند کاری کے لیے جرمنی جانے کی اجازت دی جائے۔
خالدہ ضیا اور حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کی سیاست میں جنگجو بیگمات کے طور پر جانا جاتا ہے اور ان کی باہمی دشمنی 170 ملین آبادی والے اس جنوبی ایشیائی ملک کی سیاست پر چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے چھائی ہوئی ہے۔








