ڈھاکہ:(ایجنسیاں)بنگلہ دیشں میں حالات انارکی کی طرف بڑھ رہے ہیں ہلاکتوں کی تعداد نوے سے تجاوز کرگئے ہے -جماعت اسلام پر پابندی کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے بلکہ وزیراعظم شیخ حسینہ کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے لاکھوں مظاہرین کو سماج کے تمام طبقوں کی حمایت حاصل ہورہی ہے ،حتی کہ فوج کا رویہ بھی مثبت ہے جو حکومت کے لئے سنگین اشارہ ہے ۔پی ایم شیخ حسینہ واجد کی سرکار شدید دباؤ میں ہے وہ اس وقت چاروں طرف سے گھر گئی ہے
بنگلہ دیش میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے ایک سابق آرمی چیف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوجیوں کی تعیناتی کو واپس لیں اور مظاہرین کو احتجاج کرنے دیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو، جس کی تصدیق اے ایف پی نے کی، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دارلحکومت ڈھاکہ میں بڑی تعداد میں پرجوش مظاہرین میں سے بعض ایک بکتر بند گاڑی کی چھت پر چڑھ کر بنگلہ دیش کا جھنڈا لہرا رہے ہیں اور موقع پر موجود فوجی خاموشی سے دیکھتے رہے۔
کئی سابق فوجی افسران طلبا کی حکومت مخالف تحریک میں شامل ہو گئے ہیں اور سابق آرمی چیف جنرل اقبال کریم بھوئیان نے طلبا سے اظہار یکجہتی کے طور پر اپنے فیس بک پروفائل کو سرخ رنگ میں بدل دیا۔
جنرل اقبال نے دیگر فوجی افسران کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوجیوں کو فوری طور پر سڑکوں سے واپس بلایا جائے۔‘
انہوں نے بڑی پیمانے پر ہلاکتوں، تشدد، لوگوں کو غائب کرنے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی مذمت کی۔
جنرل اقبال کریم بھوئیان کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں کو، جنہوں نے ملک کو اس صورتحال تک پہنچایا، انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
موجودہ آرمی چیف وکیرالزمان نے سنیچر کو آرمی ہیڈکوارٹرز میں فوجی افسران کو بتایا کہ ’بنگلہ دیش کی فوج عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔‘
فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ ’فوج ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور عوام کے لیے آئندہ بھی ایسا ہی کرے گی۔‘
بیان میں مزید کوئی تفصیلات نہیں دی گئی اور نہ واضح طور پر یہ بتایا گیا کہ فوج مظاہرین کو سپورٹ کرتی ہے۔
7 کروڑ آبادی والے ملک میں طلبا کے ملازمتوں کے کوٹے کے خلاف مظاہرے اب حکومت ہٹاؤ تحریک میں بدل گئے ہیں۔
حکومت مخالف ملک تحریک کی حمایت بنگلہ دیش کے ہر مکتبہ فکر کی طرف سے کی جا رہی ہے جن میں فلم سٹارز، موسیقار اور سنگرز بھی شامل ہیں۔
لوگوں پر اس تحریک کا ساتھ دینے پر زور دیتے ہوئے ’ریپ گانے‘ سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے گارمنٹس کے شعبے کے 47 صنعت کاروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں
حسینہ واجد 2009 سے مسلسل بنگلہ دیش پر حکمرانی کر رہی ہیں اور جنوری میں اپوزیشن کے بغیر ہونے والے انتخابات جیت گئی تھیں۔
حسینہ واجد کی حکومت پر انسانی حقوق کے ادارے الزامات لگاتے ہیں کہ وہ حکومتی اداروں کو اقتدار پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے اور مخالفین کو ماروائے عدالت قتل کے ذریعے قلع قمع کرنے کے لیے استعال کر رہی ہیں۔
بہرحال پورے ملک میں کرفیو ہے اس کے باوجود ملک کی وزیر اعظم حسینہ واجد کے مستعفی ہونے سمیت تمام مطالبات کی منظوری کے لیے مظاہرین نے سوموار کے روز ’لانگ مارچ ٹو ڈھاکہ‘ کے نام سے ایک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔










