اردو
हिन्दी
اگست 16, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

غزوہ بدر: دنیا کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہونے والا معرکہ اسلام کے لیے اتنا اہم کیوں تھا؟

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
65
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

,
ڈاکٹرعقیل عباس جعفری
(محقق و مورخ)
بدر مدینہ منورہ سے تقریباً 80 میل کے فاصلے پر ایک بیضوی شکل کا ساڑھے چار میل چوڑا وسیع میدان ہے جو پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔
اس میدان کی ایک تاریخی اور معاشی حیثیت پہلے سے ہی موجود تھی اور وہ یہ کہ یمن سے شام تک کی تجارتی شاہراہ اسی میدان سے ہو کر گزرتی تھی جس پر قافلے سفر کیا کرتے تھے جبکہ مکہ اور مدینہ جانے کے راستے بھی اسی مقام پر ملتے تھے۔ بحیرۂ احمر کا ساحل یہاں سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
ہجرت مدینہ سے قبل ہی مکہ کے سردار مسلمانوں کے مخالف تھے تاہم مکہ اور مدینہ کے درمیان جنگ کی فضا بننے میں ایک سے زیادہ عوامل شامل تھے۔
رجب دو ہجری میں مکے کا ایک سردار عمرو بن الحضرمی مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا تو پیغمبرِ اسلام نے مقامی روایات کے مطابق اس اتفاقی قتل کا خون بہا ادا کر دیا لیکن مکے میں مقیم سرداران قریش اس قتل پر مشتعل ہو گئے۔ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ یہ عمرو بن الحضرمی کا قتل تھا جو جنگ بدر کی تمہید بنا۔
ایک واقعہ شعبان دو ہجری میں پیش آیا جب قریش کا مال و دولت سے لدا ایک قافلہ شام سے مکے آ رہا تھا جب یہ افواہ پھیل گئی کہ مسلمان اس قافلے پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس قافلے کا سردار ابوسفیان تھا جس نے مکے کی جانب ایک قاصد دوڑایا جس کے جواب میں مکے سے اہل قریش کا ایک قافلہ ابوسفیان کے قافلے کی مدد کے لیے مدینے کی جانب روانہ ہوا۔
دائرہ معارف اسلامیہ کے مطابق ہوا یوں کہ شام سے واپس آنے والا یہ قافلہ بخیر و عافیت مکہ پہنچ گیا۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اہل قریش مدینے کی جانب بڑھنے والے اس قافلے کو واپس بلا لیتے مگر ابوجہل کے اصرار پر اہل قریش مدینے کی جانب بڑھتے رہے اور 16 رمضان دو ہجری کو بدر کے مقام پر خیمہ زن ہو گئے۔ ان افراد کی تعداد نو سو سے ایک ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے اور یہ تمام افراد اسلحہ بند تھے۔
قریش مکہ کی روانگی کی اطلاع کے بعد پیغمبرِ اسلام نے بھی 12 رمضان کو بدر کا رخ کیا ۔ وہ 17 رمضان دو ہجری کے مطابق 13 مارچ 624 کو 313 افراد کے ساتھ بدر کے قریب پہنچے۔
اس وقت بھی قریش کے چند صلح جو آدمیوں نے کوشش کی کہ جنگ نہ ہو مگر ابوجہل کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی اور مقابلے کے لیے صفیں بن گئیں۔
عرب دستور کے مطابق جنگ کا آغاز انفرادی لڑائی سے ہوا جس میں قریش کے تین جنگجو ہلاک ہوئے اور پھر گھمسان کی لڑائی شروع ہوئی۔ لڑائی کے دوران ہی دو نو عمر انصار لڑکوں معوذ اور معاذ نے مکہ کے ابوجہل کو بھی ہلاک کر دیا۔
دوسری جانب جنگ کا پانسہ مسلمانوں کے حق میں پلٹنے لگا۔ اگرچہ اہل قریش تعداد میں کہیں زیادہ تھے لیکن انفرادی لڑائی کے بعد پیغمبرِ اسلام کے حکم پر مسلمانوں کے لشکر نے قریش پر یک دم حملہ کیا جس سے جنگ کا نقشہ بدل گیا اور قریش کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔
اس دوران قریش کے کئی اہم افراد ہلاک ہوئے جن کی مجوعی تعداد 70 تھی۔ اہل قریش کے 70 افراد گرفتار بھی ہوئے جن کے بارے میں فیصلہ یہ ہوا کہ ان سے چار، چار ہزار درہم فدیہ لے کر انھیں آزاد کر دیا جائے اور جو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں وہ انصار کے دس، دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔
اس جنگ کی اہمیت کئی حوالوں سے تھی اور شاید اسی لیے اس کا شمار دنیا کی چند فیصلہ کن جنگوں میں کیا جاتا ہے اگرچہ تعداد کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی لڑائی نہیں تھی۔
کیمبرج کی تاریخ اسلام کے مطابق اس جنگ کے نتائج کی اہمیت سیاسی بھی تھی اور مذہبی بھی۔ کتاب کے مطابق ایک جانب مکہ کے درجنوں ایسے اہم رہنما ہلاک ہوئے جن کی انتظامی اور تجارتی مہارت کا کوئی نعم البدل نہ تھا۔
کیمبرج کی تاریخ اسلام میں لکھا گیا ہے کہ تعداد کی اکثریت کے باوجود مکہ کی شکست نے ایک طرف ان کا اعتماد اور رتبہ کم کر دیا تو دوسری جانب اس جنگ کے بعد مکہ کے تجارتی راستے کو لاحق خطرات بھی واضح کر دیے کیوں کہ مکہ کی تمام تر دولت کا انحصار اسی تجارت پر تھا۔ یعنی قریش کی شہرت بری طرح مجروح ہوئی اور ان کی شام کی تجارتی شاہراہ بھی غیر محفوظ ہوگئی اور یوں دیگر قبائل میں بھی ان کی وقعت کم ہوئی۔
اس جنگ سے اہل مکہ کو یقیناً ہر پہلو سے نقصان ہوا تھا۔ سب سے بڑھ کر جو نقصان ہوا وہ عزت و وقار کا نقصان تھا۔ قریش مکہ کو جزیرة العرب میں ممتاز مقام حاصل تھا۔ وہ عرب کے سابقہ نظام کے داعی اور محافظ مانے جاتے تھے لیکن ان کو ایک بالکل نئے نظام کی علمبردار چھوٹی سی تربیت یافتہ جماعت نے شکست دے دی تھی۔
روایات کے مطابق جزیرة العرب کے دور دراز علاقوں میں اس شکست کا ذکر ہونا بدیہی تھا، چنانچہ بدنامی سے بچنے کے لیے اہل مکہ نے فیصلہ کیا کہ اس شکست پر خاموش سوگ منایا جائے گا اور کوئی بھی اپنے مقتولین کی یاد میں (اشعار میں) گریہ و نوحہ نہ کرے گا۔اس خاموش سوگ کے ساتھ ساتھ یہ عزم برقرار رکھا جائے کہ بدر کی شکست کا بدلہ جلداز جلد لیا جائے گا۔

کیمبرج کے مطابق دوسری جانب مسلمانوں کے لیے اس جنگ کا نتیجہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اور ان کا مذہب حق پر اور برتر ہیں اور یوں ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اس جنگ کے بعد مسلمان ایک قوت بن کر ابھرے اور مدینے کی ریاست مستحکم ہوئی۔
اس فتح نے مدینے میں بسنے والے یہودیوں کو بھی مرعوب کردیا۔
واضح رہے کہ عسکری اعتبار سے بھی یہ جنگ بہت اہم تھی کیوں کہ یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں نے پیغمبرِ اسلام کی قیادت میں ایک جنگ لڑی اور اگر اس میں مسلمانوں کو شکست ہوتی تو عین ممکن تھا کہ اسلام صفحہ ہستی سے ہی مٹ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دن کو قرآن میں یوم الفرقان یعنی فیصلے کے دن کا نام دیا۔
دائرہ معارف اسلامیہ نے تجزیہ کیا ہے کہ یہ جنگ اس اعتبار سے فیصلہ کن تھی کہ مسلمانوں کو میدان جنگ میں پہلی مرتبہ قوت آزمائی کا موقع ملا اور مدمقابل کی اسلحے اور افراد کی کثرت کے باوجود فتح سے مسلمانوں کی ہمت بڑھ گئی اور عزم بلند ہو گئے۔ اس کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ جزیرة العرب کے دیگر قبائل مسلمانوں کی قوت سے مرعوب ہوئے اور انھیں مسلمانوں کی حقانیت پر یقین آگیا۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN