رپورٹ: انترا بروا
تاریخ بدل رہی ہے۔ اور اشاروں کنایوں میں انڈین کونسل آف ہسٹریکل ریسرچ کو بھی ایک نئی شکل مل گئی ہے۔ بھگوا رنگ اسے خاص بنا رہا ہے۔ اور جب آپ ممبر سکریٹری امیش اشوک کدم کے دفتر میں داخل ہوتے ہیں، تو کچھ چیزوں پر توجہ نہ دینا مشکل ہوتا ہے۔ دیوار کو بھگوارنگ میں پینٹ کیا گیا ہے۔ وی ڈی ساورکر کا مجسمہ دیوار کے ساتھ لگا ہوا ہے، اور اس کے بغل میں گولوالکر، آر ایس ایس کے دوسرے اور سب سے زیادہ بااثر سرسنگھ چالک بھی ہیں ۔ لائبریری کے باہر کے کچھ حصوں اور دیگر کمروں کو بھی بھگوا رنگ دیا گیا ہے۔
کدم بتاتے ہیں، ‘یہ مراٹھوں، راجپوتوں کے رنگ ہیں۔’ وہ چمکتی آنکھوں کے ساتھ اپنے نئے پروجیکٹ کے بارے میں فخر سے کہتے ہیں۔ یہ نمائش قرون وسطی کے ہندوستان اور نامعلوم خاندانوں پر منعقد کی گئی تھی۔آئی سی ایچ آر نے تین ہفتوں کے ریکارڈ وقت میں اس پر تحقیق کی، کیوریٹ کیا اور اسے نصب کیا۔ ہمارے آرکائیوز اور لائبریریاں نوآبادیاتی دنیا کی عکاسی کرتی ہیں۔’
کونسل کا ہر کمرہ فخر سے لبریز ہے۔ پرائیویٹ سیکرٹری کے کمرے میں ساورکر کی تصویر پھر آپ کو سلام کرتی ہے۔ ۔ جبکہ پرائیویٹ سیکرٹری دیوی سرسوتی کی تصویر لگانے کے حوالے سے بات چیت میں مصروف ہیں۔
جاری نمائشوں کے علاوہ، ان کے بڑے تحقیقی منصوبوں میں چھوٹ گیےشہیدوں کی ایک لغت، ایک ساورکر سمپوزیم، ایک ہندوستانی تاریخ کا مجموعہ اور اس پر ایک کتاب شامل ہے کہ ہندوستان کیسے جمہوریت کی ماں بنا اور 1937 سے 1947 تک ہینڈ اوور دہایئ پر ایک کتاب بھی شامل ہے ۔
ہندو سلطنتوں کا فروغ:تاریخ اور تاریخ نویسی بھارت میں میں ایک گرما گرم موضوع رہا ہے۔ خاص طور پر جب سے بی جے پی 2014 میں اقتدار میں آئی ہے۔ تاریخ کی کتابوں کو نوآبادیات سے ‘نجات’ دلانے، مغل حکومت پر ضرورت سے زیادہ زور کم کرنے اور ملک بھر سے ہندو سلطنتوں کی کہانیوں کو دریافت کرنے کے لیے اقدام کیےگیے ہیں۔ مودی سرکار کی سب سے بڑی ناراضگی یہ ہے کہ جس طرح سے تاریخ لکھی گئی اس میں کئی اہم واقعات چھوٹ گئے۔
آئی سی ایچ آر کی تازہ ترین نمائش ‘قرون وسطی کے ہندوستان کی شان: 8ویں-18ویں صدی کے نامعلوم ہندوستانی راجواڑوں کا انکشاف’ ان میں سے کچھ سمجھے جانے والے خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ دہلی کی ساہتیہ اکادمی میں 30 جنوری سے 6 فروری تک منعقد ہونے والی اس نمائش کا افتتاح وزیر مملکت برائے امور خارجہ راج کمار رنجن سنگھ نے کیا۔
نمائش میں مراٹھا، چولا، پرتیہارا، یادو، کاکتیہ اور وجئے نگر کی عظیم سلطنتیں دکھائی گئی ہیں۔ کوئی مسلمان حکمران شامل نہیں ہزاروں شہیدوں کی لسٹ سے موپلا بغاوت سمیت مسلمانوں کے نام نکال دیے گیے ہیں۔
کدم نے پہلے کہا تھا، "وہ [مسلمان] مشرق وسطیٰ سے آئے تھے اور ان کا ہندوستانی ثقافت سے براہ راست تعلق نہیں تھا۔” اسلام اور عیسائیت قرون وسطیٰ میں ہندوستان میں آئے اور ہندوستانی تہذیب کو پھینک کر یہاں کے علمی نظام کو تباہ کر دیا۔”مغلوں پر بہت زیادہ توجہ دی گئی”
ایک اور تاریخی شخصیت جو جارحانہ طریقے سے خود کو عوام کی نظروں میں واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے وہ ساورکر ہیں۔
(نوٹ یہ رپورٹ ‘دی پرنٹ’ کے شکریہ کے ساتھ اختصارسے دی جارہی ہے تاکہ قارئین بدلتی صورتحال سے آگاہ رہیں ۔اس میں دیے گیے حقائق،اعدادوشمار سے روزنامہ خبریں کا کویئ تعلق نہیں’ ادارہ)








