بھوپال:ایک اور پریشان کرنے والا فیصلہ آگیا ہے ،ہندو فریق کی عرضیوں کو دھڑا دھڑ منظوری مل رہی ہے اب مسجد گیانواپی کی طرز پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع بھوج شالہ کے بارے میں اے ایس آئی کے سروے کا حکم دیا ہے۔
‘ہندو فرنٹ فار جسٹس’ نے ہائی کورٹ میں ماں سرسوتی مندر بھوج شالا کے سائنسی سروے کے لیے درخواست دی تھی۔ جس پر ہائی کورٹ نے پیر کو اے ایس آئی کو سائنسی سروے کرنے کا حکم دیا۔واضح ہو کہ ہائی کورٹ نے تمام فریقوں کو سننے کے بعد فروری میں ماں سرسوتی مندر بھوج شالا کے سائنسی سروے کے لیے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ہندو فرنٹ فار جسٹس کی طرف سے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو بھوج شالہ میں نماز پڑھنے سے روکا جائے اور ہندوؤں کو باقاعدگی سے عبادت کرنے کا حق دیا جائے۔
اس عرضی میں ایک عبوری درخواست پیش کی گئی تھی اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو دھار کی بھوج شالہ میں گیانواپی کی طرز پر سروے کرنے کا حکم دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر معلومات دیتے ہوئے وکیل وشنو شنکر جین نے کہا کہ اندور ہائی کورٹ نے ان کی اپیل پر سروے کی اجازت دے دی ہے۔ مسلمانوں کو بھوج شالہ میں جمعہ کے دن نماز پڑھنے کا حق ہے۔
دراصل ہندو فریق کی طرف سے بھوج شالہ کا سروے کرائے جانے سے متعلق مطالبہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اندور بنچ نے اس پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا اور اب فیصلہ ہندو فریق کے حق میں سنایا گیا ہے۔ ہندو فریق نے یہاں ہونے والی نماز پر روک لگانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ یہاں کمال مولانا درگاہ بھی ہے جس کے تعلق سے تنازعہ جاری ہے۔ ہندو فریق کا الزام ہے کہ بھوج شالہ ایک یونیورسٹی تھی جس میں واگ دیوی کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا اور بعد میں مسلم حکمراں نے اس کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔ اس کے باقیات مولانا کمال الدین مسجد میں موجود ہونے کی بات بھی کہی جاتی ہے۔ یہ مسجد بھوج شالہ کے احاطہ میں ہی واقع ہے، جبکہ دیوی کا مجسمہ لندن کے میوزیم میں رکھا ہوا ہے۔








