بائیڈن حکومت نے کانگریس کو نظر انداز کرتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کو مزید ڈیڑھ سو ملین ڈالر مالیت کے گولہ بارود اور دیگر متعلقہ فوجی سامان بیچنے کی منظوری دیدی۔امریکی حکومت نے ہنگامی صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے اسرائیل کو ایک سوسنتالیس اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کا اسلحہ بیچنے کی منظوری دی ہے۔
اسی شق کی بنیاد پر اس ماہ کے شروع میں ایک سو بیس ایم ایم ٹینکوں کے چودہ ہزار گولے بیچنے کی بھی منظوری دی گئی تھی۔
یہ گولہ بارود 7 اکتوبر سے جاری فلسطینیوں کے خلاف بمباری میں استعمال کے لیے بیچا جارہا ہے۔ ابتدائی طور پر چھیانوے ملین ڈالر مالیت کے اسلحہ کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو اب بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا ہے جب اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف جنگ طویل عرصے تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
جنگ میں پہلے ہی اکیس ہزار پانچ سو سے زائد فلسطینیوں کا خون بہایا جا چکا ہے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔خبر ملی ہے کہ غزہ پر رات بھر اسرائیلی افواج نے بمباری کی ہے، دیر البلاح کے علاقے میں رہائشی عمارت پر حملے میں متعدد بچے شہید و زخمی ہو گئے۔رفح میں کویتی اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے میں 21 فلسطینی شہید ہو گئے۔
آدھر جنگ بندی کے مصری فارمولے پر بات چیت کے لیے حماس کا وفد آج قاہرہ جائے گاحماس نے واضح کیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت مکمل رکنے تک کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔









