اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ 11 دنوں سے جنگ جاری ہے۔ ایک طرف حماس کھلا چیلنج دے رہی ہے تو دوسری طرف اسرائیل نے بھی واضح کر دیا ہے کہ حماس کی تباہی تک جنگ جاری رہے گی۔ اس تمام صورتحال کے درمیان عالمی سطح پر لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سب کے درمیان امریکی صدر جو بائیڈن کچھ خاص ممالک کا دورہ کرنے والے ہیں جن میں اسرائیل، اردن، عمان شامل ہیں۔ ایک طرف ایران بھی دھمکیاں دے رہا ہے تو دوسری طرف حزب اللہ نے بھی محاذ کھول رکھا ہے۔ اس سب کے درمیان اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ اس بار لڑائی فائنل ہوگی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ نے لبنان کی سرحد پر آئی ڈی ایف کے ٹینکوں اور پوسٹوں پر فائرنگ کی اور راکٹوں سے بھی حملہ کیا۔ یہ حملہ ہوتے ہی دارالحکومت تل ابیب سمیت ارد گرد کے علاقوں میں سائرن بج گئے۔ اس کے بعد اسرائیلی ڈیفنس فورس نے اپنی بندوقیں لبنان کی طرف کھول دیں اور ان جگہوں پر گولہ باری کی جہاں سے راکٹ فائر کیے گئے۔ اس سب کے درمیان روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے بھی پی ایم نیتن یاہو سے بات کرکے معاملہ حل کرنے پر زور دیا۔ تاہم سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا حماس اور حزب اللہ بھی اپنی کارروائیوں کو روکیں گے؟ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے شمالی سرحدی شہر شتولا میں اسرائیل کے فوجی اڈوں پر گولہ باری کی۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی گولہ باری کا بدلہ ہے جس میں جمعہ کو رائٹرز کے ویڈیو گرافر عصام عبداللہ اور ہفتے کے روز دو لبنانی شہری مارے گئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے جوابی کارروائی میں عیط الشعب شہر کے مضافات کو نشانہ بنایا۔








