نئی دہلی:بہار میں حال ہی میں بحال ہونے والے اساتذہ میں سے کچھ نے کہیں اور نوکری لینے کے لیے استعفیٰ دیا ہے اور اکثر نے مبینہ طور پر گزشتہ چھ ماہ میں بہار کے محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کے کے پاٹھک کی جانب سے شروع کی گئی اصلاحات کی وجہ سے نوکری چھوڑی ہے۔ اساتذہ کے ترک ملازمت کی ایک وجہ دیہی علاقے اور دور دراز کی پوسٹنگ بھی ہے-خبر کے مطابق بہار میں محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول کے قوانین میں سخت اصلاحات کے بعد گزشتہ دو مہینے میں 150 سے زیادہ نئے اساتذہ نے استعفیٰ دے دیا
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، استعفیٰ دینے والے اساتذہ میں سے کچھ نے کہیں اور ملازمت لینے کے لیے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم، ان میں سے اکثر نے مبینہ طور پر گزشتہ چھ ماہ میں بہار کے محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری کے کے پاٹھک کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات کی وجہ سے نوکری چھوڑی ہے۔ اساتذہ کے ترک ملازمت کی ایک وجہ دیہی علاقے اور دور دراز کی پوسٹنگ بھی ہے۔بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) نے حال ہی میں 1.22 لاکھ اساتذہ کی بھرتی نکالی ہے۔ فی الحال یہ ریاست کے اسکولوں میں مزید 1.20 لاکھ اساتذہ کی تقرری کے لیے امتحان لے رہی ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے متعارف کرائے گئے کچھ نئے اقدامات میں اساتذہ کے لیے صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک اسکول کا وقت بڑھانا (پہلے صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک)، ایک ہفتے میں کم از کم تین معائنہ، رکشا بندھن، تیج اورجتیا، درگا پوجا اور چھٹھ کی تعطیلات میں کٹوتی، اساتذہ کے لیے گرمیوں کی چھٹیاں ختم کرنا اور اس دوران اسکول بند نہیں کرنا شامل ہے۔
وہیں محکمہ تعلیم کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے بہت اچھا ردعمل مل رہا ہے۔اہلکار نے کہا، ‘ایڈیشنل چیف سکریٹری کے کے پاٹھک نے کئی اسکولوں کا دورہ کیا اور تعلیمی اصلاحات پر بہت اچھی رائے لی۔ کچھ لوگ اصلاحات سے ناخوش ہو سکتے ہیں، ہم اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔
دوسری طرف بہار ٹیچر اہلیت ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) ایسوسی ایشن کے صدر امت وکرم نے محکمہ تعلیم کے کئی بڑے فیصلوں کو غیر منطقی قرار دیا
وکرم نے کہا، ‘ہمیں دیہی آسامیاں پُر کرنے کے حکومتی فیصلے سے کوئی شکایت نہیں ہے، لیکن حکومت کو اساتذہ کو پوسٹنگ کا تبادلہ کرنے کی اجازت دینے کے لیے اضلاع کے اندر ٹرانسفر کے لیے کھلا رکھنا چاہیے۔’
انہوں نے کہا، ‘اس کے علاوہ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب طلباء چھٹیوں پر ہوتے ہیں تو اساتذہ کو اسکولوں میں رکھنے کی کیا منطق ہے؟ اسکول کے اوقات صبح 9 بجے سے شام 5 بجے (طلبہ کے لیے 4.15 بجے) ہیں۔ طلباء کے 4:15 بجے چھٹی کے بعد بھی اساتذہ کو شام 5 بجے تک رکنے کو کہا جاتا ہے۔ کمزور طلباء کے لیے دوپہر 3:30 بجے سے 4:15 بجے کے درمیان خصوصی کلاسز لینا ہوں گی۔ وہ جلد ہی دلچسپی لینا بند کردیں گے۔









