امیٹھی :(ایجنسی)
اترپردیش کی سیاست میں اکثر متنازع بیانات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ذات پات اور مذہب کا مسئلہ زور و شور سے اٹھتا رہتا ہے۔ ایسے میں امیٹھی میں انتخابی مہم چلانے گئے بی جے پی ایم ایل اے میانکیشور سنگھ کا ایک متنازع بیان سرخیوں میں ہے۔ بتادیں کہ امیٹھی میں انتخابی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی ایم ایل اے نے کہا ہے کہ اگر ہندو جاگ گیا تو داڑھی نوچ کر چٹیا بنا دے گا۔
بتا دیں کہ میانکیشور سنگھ امیٹھی کے تلوئی اسمبلی سے ایم ایل اے ہیں۔ اس بار بھی پارٹی نے انہیں ٹکٹ دیا ہے۔ ان کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں وہ ایک خاص برادری کے خلاف کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ اگر ہندوستان کاہندو جاگر گیا تو داڑھی نوچ کر چٹیا بنا دے گا۔
ایم ایل اے سنگھ نے مزید کہا کہ اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو رادھے- رادھے کہنا ہوگا۔ ورنہ جس طرح تقسیم کے وقت جیسے سب پاکستان چلے گئے تھے ، ویسے آپ بھی چلے جائیے۔ بتادیں کہ تلوئی میں بی جے پی امیدوار میانکیشور سنگھ کے خلاف ایس پی نے نیم کو ٹکٹ دیاہے ۔
نعیم کا نام لیے بغیر سنگھ نے کہا کہ جگدیش پور سے ایک شریف آدمی آئے ہیں جو بیس سال پہلے آئے تھے۔ بیس سال بعد انپیں پھر سے یہاں کے لوگ یاد آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ جیت گئے تو آپ لوگ سوچیں کہ کیا ہوگا۔ سنگھ نے کہا کہ اگر ریاست میں ایس پی کی حکومت آتی ہے تو ایودھیا میں رام مندر کا کام رک جائے گا۔
انہوں نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متھرا-کاشی میں بھی ایودھیا کی طرح مندر بنے گا۔ اگر زیادہ پریشانی ہے تو مسلمان پاکستان چلے جائیں۔
میانکیشور سنگھ نے کہا کہ اگر آپ سبھی متھرا، کاشی اور ایودھیا میں مندر بنانا چاہتے ہیں تو بی جے پی کو جیتنا ہوگا۔ لیکن اگر ریاست میں کانگریس، بی ایس پی یا ایس پی کی حکومت بنتی ہے تو حکومت بدلتے ہی ایک حکم نامہ پاس ہو جائے گا اور مندر کا کام رک جائے گا۔ اب اس پر غور کریں جو ہمارے اجداد کا 500 سال کا خواب تھا، کہیں حکومت بدل گئی تو یہ خواب پورا نہیں ہو گا۔










