لکھیم پور کھیری :(ایجنسی)
اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری ضلع کی 8 اسمبلی سیٹوں میں سےاب تک 6 اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی کے امیدوار الیکشن جیت چکے ہیں ۔ وہیں 2 سیٹوں کی گنتی جاری ہے ۔
لکھیم پور صدر سیٹ سے بی جے پی کے یوگیش ورما پہلے راؤنڈ میں آگے ہیں۔ یہاں کی سیٹوں میں پالیا، نگہاسن، گولا گورکھناتھ، سری نگر، دھورہرا، لکھیم پور، کستا اور محمدی شامل ہیں۔چوتھے مرحلے میں 23 فروری کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ لکھیم پور کھیری میں تکونیہ تشدد کے بعد ماحول بدل گیا تھا۔ اس تشدد میں 8 افراد مارے گئے تھے ۔
لکھیم پور کھیری میں چوتھے مرحلے کی پولنگ میں 62.45 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔بتا دیں کہ لکھیم پور کھیری میں پچھلی بار بی جے پی نے صفایا کر دیا تھا۔ ایسے میں کسانوں کو کچلنے والے واقعے کے بعد یہاں بی جے پی کا راستہ آسان نہیں تھا۔ یہاں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کی ساکھ داؤ پر لگ گئی تھی۔
لکھیم پور کھیری ضلع میں اسمبلی سیٹوں کاحال
پالیا
یہ اسمبلی حلقہ کھیری پارلیمانی حلقہ اور کھیری ضلع کا ایک حصہ ہے۔ یہاں 6 امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے۔ ان میں 5 مرد اور 1 خاتون شامل تھیں۔ یہاں بی جے پی نے ہرویندر کمار ساہنی عرف رومی ساہنی کو میدان میں اتاراتھا، جب کہ سماج وادی پارٹی نے پریتندر سنگھ ککو پر دواؤ کھیلا۔ بی ایس پی سے ڈاکٹر ذاکر حسین، ’آپ‘ سے للت ورما اور کانگریس سے رسال احمد میدان میں تھے۔ پالیا اسمبلی سیٹ سے بی جے پی امیدوار ہرویندر سنگھ ساہنی رومی جیت گئے ہیں۔
نگہاسن
اس بار اس اسمبلی حلقہ میں 7 امیدوار میدان میں تھے۔ یہاں سے سماج وادی پارٹی کے آر ایس کشواہا میدان میں تھے۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی نے ششانک ورما پر دائو کھیلا تھا۔ کانگریس سے اٹل شکلا اور بی ایس پی سے آر اے عثمانی میدان میں ہیں۔ نگہاسن اسمبلی سیٹ سے بی جے پی امیدوار ششانک ورما جیت گئے ہیں۔
گولا گوکرناتھ
گولا گوکرناتھ اسمبلی حلقہ میں 7 امیدوار میدان میں تھے۔ ان میں 5 مرد اور 2 خواتین شامل تھیں۔ یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اروند گری کو الیکشن میں اتارا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سماج وادی پارٹی نے ونے تیواری پر دائو کھیلا تھا۔ کانگریس پرہلاد پٹیل اور بی ایس پی نے شیکھا اشوک قنوجیا کو میدان میں اتارا تھا۔ گولا اسمبلی سیٹ سے بی جے پی امیدوار اروند گری جیت نے درج کی ہے۔
سری نگر
سری نگر اسمبلی حلقہ کی بات کریں تو یہاں 9 امیدوار میدان میں تھے۔ ان میں 6 مرد اور 3 خواتین شامل تھیں۔ یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے منجو تیاگی پر قسمت آزمائی، جب کہ ایس پی نے رام شرن کو میدان میں اتارا تھا۔ بی ایس پی کی میرا بانو میدان میں تھیں، کانگریس نے چاندنی کو موقع دیا تھا۔ سری نگر اسمبلی سیٹ سے بی جے پی امیدوار منجو تیاگی جیت گئی ہیں۔
دھوراہرا
دھوراہرا اسمبلی حلقہ میں 9 امیدوار میدان میں تھے۔ ان میں 7 مرد اور 2 خواتین شامل تھیں۔ بی جے پی یہاں ونود شنکر کو آزما یا، جبکہ سماج وادی پارٹی نے ورون سنگھ کو میدان میں اتارا تھا۔ بی ایس پی کی بات کریں تو آنند موہن ترویدی میدان میں تھے۔ ساتھ ہی کانگریس کی طرف سے جتیندر دیوی کو میدان میں اتارا گیا تھا۔ بی جے پی امیدوار ونود شنکر اوستھی نے لکھیم پور کھیری کی دھوراہرا اسمبلی سیٹ سے انتخاب جیت لیا ہے۔
لکھیم پور
لکھیم پور اسمبلی حلقہ میں 12 امیدوار میدان میں تھے۔ ان میں 11 مرد اور 1 خاتون شامل ہے۔ یہاں یوگیش ورما بی جے پی کی طرف سے انتخابی میدان میں تھے۔ دوسری طرف سماج وادی پارٹی نے اتکرش ورما مادھور کو میدان میں اتارا تھا۔ دوسری طرف بی ایس پی سے موہن واجپئی میدان میں تھے۔ روی شنکر ترویدی کانگریس سے ہیں۔ لکھیم پور صدر سیٹ سے بی جے پی کے یوگیش ورما پہلے راؤنڈ میں آگے ہیں۔
کستا
کستا اسمبلی حلقہ میں 8 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 7 مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ یہاں سماج وادی پارٹی نے سنیل کمار لالہ پر داؤ لگایاہے، جبکہ بی جے پی نے سوربھ سنگھ کو میدان میں اتارا تھا۔ وہیں بی ایس پی سے ہیم وتی دیوی اور کانگریس سے رادھے شیام میدان میں تھے۔ بی جے پی امیدوار سوربھ سنگھ سونو کاستا اسمبلی سیٹ سے جیت گئے ہیں۔
محمدی
محمدی اسمبلی حلقہ میں 7 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں 6 مرد اور 1 خاتون شامل ہیں۔ لوکندر پرتاپ سنگھ یہاں بی جے پی سے انتخابی میدان میں ہیں۔ داؤد احمد ایس پی سے انتخابی مقابلہ میں تھے۔ وہیں بی ایس پی نے شکیل احمد اور کانگریس نے ریتو سنگھ کا مقابلہ کیا ہے۔










