لکھنؤ :(ایجنسی)
کشمیری پنڈتوں کے پلائن پر ہدایت کار وویک اگنی ہوتری کی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ ان دنوں کافی بحث میں ہے۔ باکس آفس پر فلم کی بمپر کمائی جاری ہے جب کہ کئی جگہوں پر اسے فری میں دکھانے کی خبریں ہیں۔ تازہ معاملہ اتر پردیش کے اناؤ ضلع کا ہے۔ جہاں اناؤ صدر سے بی جے پی ایم ایل اے پنکج گپتا نے لوگوں کو فری میں فلم دکھانے کی پہل کی ہے۔ ودھایک جی نے 20 مارچ سے 31 مارچ تک کے تمام تھیٹر شوز بک کر لیے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ہریانہ سے بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا ہے۔ جہاں بی جے پی کے کچھ لیڈروں کا ایک پوسٹر وائرل ہوا ہے جس میں فلم ’دی کشمیر فائلز‘ فری میں دکھائی جارہی ہے۔
جب یہ پوسٹر فلم کے ڈائریکٹر وویک اگنی ہوتری کے پاس پہنچا تو انہوں نے فوری طور پر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر سے اس پر روک لگانے کی مانگ کی۔
فلم کومفت میں دکھانا جرم ہے
وویک اگنی ہوتری نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’احتیاط: کشمیر فائلز کو اس طرح کھلے عام اور فری میں دکھانا جرم ہے۔ محترم منوہر لال جی، میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ اسے بند کر دیں۔ سیاست دانوں کی سرگرمی بزنس کا احترام کرنا چاہیے۔ حقیقی حب الوطنی اور سماجی خدمت کا مطلب قانونی اور پر امن طریقے سے طور پر ٹکٹ خریدنا ہے۔
اناؤ میں مفت میں فلم کی نمائش
بی جے پی ایم ایل اے پنکج گپتا نے پارٹی کارکنوں کے ساتھ فلم ’دی کشمیر فائلز‘ دیکھی اور عام لوگوں سے بھی اس فلم کو دیکھنے کی اپیل کی۔ اس کے لیے بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ٹوکن بھی جاری کیے جارہے ہیں۔ شہر کے واحد سنیما ہال سندر ٹاکیز کے تمام شوز 31 مارچ تک بک ہو چکے ہیں۔
فلم دیکھنے کے بعد ایم ایل اے پنکج گپتا نے کہا کہ فلم کے ذریعے ملک کی سچائی کو دکھانے کا کام کیا جا رہا ہے جو شاید آج تک عام آدمی تک نہیں پہنچا۔ اس کے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف ایک فلم نہیں ہے، یہ وہی ہے جو تاریخ اور موجودہ حالات میں ہوا، اسے دیکھ کر ہماری نسلیں فیصلہ کر سکتی ہیں کہ وہ کیسا مستقبل چاہتے ہیں‘۔
کئی ریاستوں میں فلم ٹیکس فری
آپ کو بتاتے چلیں کہ فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کو کئی ریاستوں میں ٹیکس فری کر دیا گیا ہے۔ اس فلم کو وزیر اعظم مودی نے بھی سپورٹ کیا، جس کے بعد کئی ریاستوں میں فلم پر سے ٹیکس ہٹا دیا گیا ہے۔










