نئی دہلی:18ویں لوک سبھا کے لیے منتخب اراکین کی حلف برداری کا پروگرام پیر سے شروع ہواہے۔ دریں اثنا، اتر پردیش کے بریلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ چھترپال سنگھ گنگوار نے حلف لینے کے بعد ’’جے ہندو راشٹر، جئے بھارت‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا۔ ان کے حلف پر اپوزیشن رہنماؤں نے اعتراض کیا۔ اپوزیشن نے کہا کہ آئین پر حلف اٹھاتے ہوئے ایسی بات نہیں کہی جا سکتی، یہ آئین کے خلاف ہے۔
اس سے قبل حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی حلف برداری کو لے کر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ انہوں نے حلف برداری کے بعد ’’جئے فلسطین‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے منگل کو پارلیمنٹ میں حلف لینے کے بعد "جئے بھیم، جئے میم، جئے تلنگانہ، جئے فلسطین…” کا نعرہ لگایا۔ کہا۔ ایم پی شوبھا کرندلاجے نے اس پر سوال اٹھایا۔ اس کے بعد پارلیمنٹ میں موجود دیگر ارکان نے بھی جئے فلسطین کہنے پر اعتراض کیا۔ تنازع کو بڑھتا دیکھ کر بنچ پر بیٹھے رادھا موہن سنگھ نے اسے ریکارڈ سے ہٹانے کا حکم دیا۔
حلف لینے کے لیے جب بنچ سے اسد الدین اویسی کا نام طلب کیا گیا تو ایوان میں بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ممبران پارلیمنٹ نے جئے شری رام کے نعرے لگائے۔ اس دوران جب اویسی حلف لینے کے لیے ڈائس پر پہنچے تو سب سے پہلے انہوں نے جئے بھیم کا نعرہ لگایا۔ اس کے بعد انہوں نے اردو میں حلف لیا۔ اس کے بعد دوبارہ جئے بھیم، جئے میم، جئے تلنگانہ، جئے فلسطین کہا۔
آئین کی کاپی کے ساتھ حلف اٹھایا
اس سے پہلے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے لوک سبھا میں ممبرپارلیمنٹ کی حیثیت سے حلف لیا۔ تقریب حلف برداری کے دوران انہوں نے ہاتھ میں آئین کی کاپی اٹھا رکھی تھی۔ حلف لینے سے پہلے راہل گاندھی نے آئین کی کاپی اٹھا کر حکمراں پارٹی کی طرف دکھائی۔ اس کے بعد وہ حلف اٹھانے لگے۔









