تجزیہ:ڈاکٹر روی کانت (لکھنؤ یونیورسٹی)
لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو اکثریت نہیں ملی لیکن نریندر مودی حکومت بنانے میں کامیاب رہے۔ انتخابی نتائج کے بعد آر ایس ایس مسلسل مودی پر حملہ کر رہا ہے۔ آر ایس ایس بی جے پی کی شکست کو نریندر مودی کی انا کی شکست قرار دے رہی ہے۔ موہن بھاگوت سے لے کر اندریش کمار تک انتخابی نتائج کو مودی کا تکبر اور رام کا انصاف قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا سنگھ مودی کے خلاف بیان بازی کر رہی ہے؟ ان بیانات کو سنگھ اور مودی کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ تجزیہ کار اسے بی جے پی کی تقسیم کا اشارہ بھی مان رہے ہیں۔ مودی اور یوگی کے درمیان بڑھتی دوری اور خاموشی کو بھی اس بیان بازی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ آر ایس ایس یوگی کو پروموٹ کر کے مودی-شاہ یعنی گجرات لابی کو کنارےکرنے کے موڈ میں ہے! کیا یہ قبول کیا جا سکتا ہے؟ آر ایس ایس جو کہہ رہا ہے، اس کا مطلب وہی ہے یا کچھ اور؟
یہ قابل ذکر ہ ے کہ سنگھ جو کچھ کہتا اور کرتا ہے ہوتااس کے بالکل برعکس ہے۔ سنگھ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے کئی چہرے ہیں۔ موہن بھاگوت اور اندریش کمار کے بیانات کا اسی تناظر میں جائزہ لینا چاہیے۔ دراصل آر ایس ایس انڈیا اتحاد کی جیت کو نہیں مودی کی ہار کو اہمیت دے رہی ہے۔ انڈیا اتحاد نے اس الیکشن میں کم مائیگی کے باوجود مختلف طاقتوں سے لیس بی جے پی کا بہت مضبوط مقابلہ کیا۔ نریندر مودی کے پاس کارپوریٹ میڈیا تھا، بے پناہ سرمایہ تھا، ED-CBI جیسی بدنام ایجنسیاں اپوزیشن کے کسی بھی بیانیے کو تباہ کرنے میں لگاتار مصروف تھیں۔ لیکن ایک بڑا ایشو اپوزیشن کے ہاتھ لگ گیا یا یوں کہئے کہ نریندر مودی نے خود اسے پلیٹ میں رکھ کر اپوزیشن کو دے دیا۔ آئین میں تبدیلی کا اعلان نریندر مودی اور بی جے پی کے لیے ناسور بن گیا۔
نریندر مودی نے اقتصادی سروے کے معاملے کو ہندو خواتین کے منگل سوتر سے جوڑا۔ اس کے بعد نریندر مودی اس قدر نیچے گر گئے کہ انہوں نے دھمکی کی تمام حدیں پار کر دیں۔ کہا- کانگریس کی حکومت آئی تو یہ لوگ تمہاری بھینسیں چھین لیں گے۔ یہ بے ساختہ نہیں تھا اور نہ ہی یہ دماغی خرابی کی علامت تھی۔ یہ گھٹیا سیاست تھی۔ منگل سوتر اور بھینس کا خوف ظاہر ہے غریب زرعی معاشرے کے لیے تھا۔ یہ معاشرہ کون ہے؟ دلت، پسماندہ اور قبائلی۔ اس کے بعد نریندر مودی نے بھی ریزرویشن کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے لوگ دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ طبقات کا ریزرویشن چھین کر مسلمانوں کو دینا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ ایسا نہیں ہونے دیں گ۔ ان مسائل کا براہ راست اثر نتائج میں نظر آیا۔ بی جے پی 240 سیٹوں پر سمٹ گئی اور کانگریس پارٹی کی سیٹوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو کر 99 ہو گئی۔ یوپی میں کانگریس اور ایس پی نے بی جے پی کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ راجستھان کے دلت اور قبائلی اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کا پتہ صاف ہوگیا۔ بھلے ہی انڈیا اتحاد حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوا ہو لیکن اس کا ایجنڈا جیت گیا ہے۔ سماجی انصاف اور آئین کو بچانے کے مسئلہ پر جیت نہ صرف بی جے پی کی بلکہ آر ایس ایس کی سب سے بڑی شکست ہے۔
منوسمرتی کی بنیاد پر نیا آئین لکھنے اور نافذ کرنے کی آر ایس ایس کی بنیادی خواہش چکنا چور ہو گئی۔ آر ایس ایس بی جے پی کی شکست کو ہضم نہیں کر پا رہی ہے۔ اس لیے انڈیا اتحاد کے بیانیے کو پس پشت ڈالنے کے لیے سنگھ بار بار اس شکست کو مودی کی انا کی شکست قرار دے رہا ہے۔
یہ الیکشن نریندر مودی کے مقابلے آر ایس ایس کے لیے زیادہ خاص ت گا سنگھ کسی بھی قیمت پر اپنے قیام کے سو سال میں ہونے والے انتخابات جیتنا چاہتی تھی۔ انتخابی نتائج کے بعد سنگھ کی یہ کارروائی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات رکھنے والوں کے بیانات کی تاریخ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے موہن بھاگوت کا بیان آتا ہے جس میں انہوں نے بالواسطہ طور پر مودی کے تکبر کو بی جے پی کی شکست کی وجہ قرار دیا۔ اس کے بعد اندریش کمار نے اسے الگ رنگ دیا۔ اندریش کمار کے بیان کا ذرا تجزیہ کریں۔ کیا ہندوستان تھیوکریسی ہے؟ یہ انتخابی نتائج کو رام بھکت اور رام مخالف کے زمرے میں تقسیم کرنے کی سازش ہے۔بھارت میں الیکشن جیت کر حکومت بنانے کا کام رام کر رہا ہے! یہ بیان نہ صرف جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے بلکہ شہریوں کے حقوق کی پامالی بھی ہے۔ یہ بابا صاحب امبیڈکر کی سیدھی توہین ہے سنگھ انتخابی نتائج کو رام پر لگانا چاہتی ہے۔ وہیں فیض آباد (ایودھیا) میں بھی بی جے پی الیکشن ہار گئی۔ ایودھیا میں سماجی اور معاشی انصاف کی جیت ہوئی ہے۔ کارپوریٹ نواز ہندوتوا کو شکست ہوئی ہے۔ ۔ یہ تو ابھی شروعات ہے جمہوریت میں یہی ووٹ کی طاقت ہے۔ طاقت کے اس احساس کو ختم کرنے کے لیے آر ایس ایس جیت اور ہار کو رام کے دائرے میں شامل کرنا چاہے
(یہ تجزیہ نگار کے ذاتی خیالات ہیں)









