نئی دہلی:(مرزا انوارالحق بیگ)
آج ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے، بمبئی ہائی کورٹ نے کولہاپور ضلع میں مہاراشٹر کے تاریخی وشال گڑھ قلعے کے ارد گرد تمام مسماری کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا۔ عدالت نے قلعہ کے قریب غزہ پور گاؤں میں مسلمانوں کے گھروں، ایک مسجد اور ایک درگاہ کو نشانہ بنانے والے دائیں بازو کے ہجوم کے ذریعہ توڑ پھوڑ کے جواب میں تقریباً 70 ڈھانچوں کو منہدم کرنے پر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
جمعہ کے روز، جسٹس برجیس کولابوالا اور فردوش پونی والا پر مشتمل ایک ڈویژن بنچ نے مہاراشٹر حکومت کو ایک سخت انتباہ جاری کیا، جس میں مانسون کے موسم میں قلعے کے قریب کسی بھی ڈھانچے کو گرانے سے منع کیا گیا۔ یہ حکم تجارتی اور رہائشی دونوں عمارتوں پر لاگو ہوتا ہے، جو ریاستی حکومت کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ وہ صرف تجارتی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے جو عدالتی احکامات سے محفوظ نہیں ہیں۔
عدالت کا فیصلہ 14 جولائی کے ایک پرتشدد واقعے کے بعد آیا ہے، جب ہندو دائیں بازو کے ہجوم نے مبینہ طور پر قلعہ کے قریب واقع غزہ پور گاؤں میں مسلمانوں کی ایک مسجد، مکانات اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کی۔
جسٹس کولابوالا نے ریاست کے اقدامات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "آپ برسات کے موسم میں ڈھانچے کو کیسے گرا سکتے ہیں؟ ہم یہ بالکل واضح کرتے ہیں کہ کوئی بھی ڈھانچہ، خواہ وہ کمرشل ہو یا رہائشی، اگلے احکامات تک منہدم نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ بنچ نے یہاں تک کہ اگر مزید انہدام کی کارروائی گئی تو حکام کو قمجیل بھی بھیجا جاسکتاُہے ۔
عدالت شاہوادی تعلقہ کے رہائشیوں کی طرف سے دائر کی گئی ایک عرضی کا جواب دے رہی تھی، جس میں حالیہ تشدد کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ایک سابق جج کی قیادت میں خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عرضی گزاروں کا الزام ہے کہ راجیہ سبھا کے سابق رکن سمبھاجی راجے چھترپتی کی قیادت میں دائیں بازو کے کارکن، جو مراٹھا جنگجو بادشاہ شیواجی کی اولاد ہیں، ممنوعہ احکامات کے باوجود قلعہ میں جمع ہوئے۔
درخواست کے مطابق، پولیس نے تقریباً 100 مظاہرین کو قلعہ پر چڑھنے کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں "گاؤں میں تقریباً دو گھنٹے تک افراتفری اور لاقانونیت کا ماحول رہا۔” درخواست گزاروں کے وکیل ایڈوکیٹ ستیش تلیکر نے عدالت میں تشدد کے ویڈیو ثبوت پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس خاموش تماشائی بن کر کھڑی رہی جبکہ دائیں بازو کے گروپوں نے لاٹھیوں اور ہتھوڑوں سے لیس غزہ پور میں رضا جامع مسجد کو منہدم کرنے کی کوشش کی










