ہریدوار: اتراکھنڈ میں سرکاری اراضی سے تجاوزات ہٹانے کی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ ایک مزار اور ایک مندر کو منہدم کر دیے جانے کی خبر ہے۔۔ مسمار شدہ مزار تیس سال پرانا، جبکہ مندر پانچ دہائیوں پرانا بتایا جاتا ہے۔ یہ کارروائی ہریدوار میں آریہ نگر کی عبادت گاہ اور ہریدوار دہلی ہائی وے پر سنگھ دوار میں فلائی اوور کے نیچے بنے ہنومان مندر کے خلاف کی گئی۔
اس سے قبل انتظامیہ نے دو علاقوں میں بنائے گئے غیر قانونی مزارات کو مسمار کر دیا تھا۔ مذہبی مقامات کو منہدم کرنے کی کارروائی پر ہریدوار کے ڈپٹی کلکٹر پورن سنگھ رانا نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر آئینی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت امن و امان کی صورتحال معمول پر ہے۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کارروائی کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے رانا نے کہا کہ سرکاری املاک پر غیر قانونی تجاوزات کو گرایا جائے گا چاہے وہ کسی بھی برادری سے تعلق رکھتے ہوں۔
اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی نے کہا تھا کہ 1000 سے زیادہ جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں تجاوزات ہوئی ہیں۔ مہم چلا کر ان کی صفائی کی جائے گی۔ اب تک 300 سے زائد غیر قانونی تعمیرات پر کارروائی کی جا چکی ہے
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابھی تک اتراکھنڈ میں صرف چند غیر قانونی مزاروں پر کارروائی ہوئی ہے اور اس میں بھی اب یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ان مزاروں میں کوئی میت نہیں تھی۔ یہاں کے جنگلات کی زمین اتراکھنڈ کے محکمہ جنگلات کے تحت آتی ہے اور قانون کہتا ہے کہ جنگلات کے کسی بھی علاقے میں کوئی مذہبی مقام نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی کسی قسم کی تجاوزات ہو سکتی ہیں۔ یہاں ٹائیگر ریزرو کے علاقے میں بھی مزار بنائے گئے ہیں۔







