گورکھپور میں پولیس کو کچھ پرائیویٹ اسپتالوں کے بارے میں خبر ملی کہ علاج کے نام پر مریضوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ یہی نہیں غیر تربیت یافتہ لوگ ڈاکٹروں کے نام پر مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ آج تک کی رپورٹ کے مطابق یہ خبر ملتے ہی پولیس حرکت میں آتی ہے اور شہر کے ایک اسپتال پر چھاپہ مارتی ہے۔ پولیس جب اسپتال کے آئی سی یو میں پہنچتی ہے تو یہ دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے کہ دو روز قبل فوت ہونے والے ایک شخص کو وہاں آکسیجن ماسک پہنا کر علاج کیا جا رہا تھا۔ یا یوں کہیے کہ اس ہسپتال میں ایک لاش کا علاج ہو رہا تھا۔
ہوا کچھ یوں کہ پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج کے نام پر لوگوں سے لوٹ مار اور بلیک میلنگ کی شکایات پر پولیس، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی ٹیم مختلف اسپتالوں میں چھاپے مار رہی تھی۔ اور اس چھاپے کے دوران انہوں نے اس ایشو ہسپتال میں کچھ ایسا دیکھا جو تصور سے باہر تھا۔ یہاں ہسپتال کے آئی سی یو میں ڈاکٹروں نے آکسیجن ماسک لگا کر ایک لاش رکھ چھوڑی تھی اور بتا رہے تھے کہ مریض کا علاج چل رہا ہے۔
مریض دو روز قبل انتقال کر گیا تھا۔
جبکہ مریض چھاپے سے بہت پہلے ہی دم توڑ چکا تھا۔ وہ چھاپے سے دو دن پہلے مر گیا تھا۔ چھاپہ مارنے پہنچی پولیس اور ضلع کے سی ایم او نے جب یہ منظر دیکھا تو وہ چونک گئے۔ جس کے بعد انہوں نے نہ صرف اسپتال کے مالک کے خلاف کارروائی کا حکم دیا بلکہ اسپتال کے ملازمین کو گرفتار کرکے اسپتال کو سیل کردیا۔
میڈیکل مافیا کا بول بالا
درحقیقت گورکھپور سمیت اترپردیش کے کئی اضلاع میں میڈیکل مافیا برسوں سے راج کر رہا ہے۔ ان کا طریقہ کار بہت سادہ ہے۔ ان کے ایجنٹ سرکاری ہسپتالوں میں گھسے ہوئے ہیں۔ وہ وارڈ بوائے، فارماسسٹ یا ڈاکٹر بھی ہو سکتا ہے۔ پریشان حال لوگ جیسے ہی اپنے مریضوں کے ساتھ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے پہنچتے ہیں تو یہ ایجنٹ سرکاری اسپتالوں میں سہولیات کی کمی کی شکایت کرکے انہیں ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔








