سی اے اے کو لے کر نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی کافی بحث ہو رہی ہے۔۔امریکہ کا مشہور اخبار نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ بھارت میں انتخابات سے چند ہفتے قبل شہریت کا قانون نافذ کیا جا رہا ہے۔
2020 میں دہلی میں فسادات کے بعد اس قانون کو روک دیا گیا تھاپیر کو مودی حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے شہریت کے نئے قوانین CAA کی تفصیلات کے ساتھ تیار کیے ہیں اور اس پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ بھارت میں اپریل اور مئی میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور انتخابات کی تاریخوں کا اعلان اسی ماہ ہونے جا رہا ہے۔
این وائی ٹی نے لکھا ہے، اس قانون کو اس سے پہلے لاگو کرکے مودی نے عوام کو اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں گے اور یہ قدم ہندو پناہ گزینوں والے اضلاع میں مودی کے لیے انتخابی ریاضی کو بدل سکتا ہے۔nytنے لکھا ہے کہ اگر ہم سیاست کو ایک طرف رکھیں تو یہ قانون ہندوستان کی متنوع آبادی کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے، کم از کم یہ قانون اپنے طور پر ایسا نہیں کر سکے گا، لیکن مودی نے اس کے ذریعے واضح کر دیا ہےکہ جمہوریہ ہند کی تعریف اپنے انداز میں کریں۔گے وہ اپنے ’ہندوفرسٹ ‘ ویژن کے حوالے سے کسی کی مخالفت برداشت نہیں کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس قانون کا نفاذ مئی میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے کیا جا رہا ہے اور یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے انتخابی وعدوں میں سے ایک تھا۔مودی حکومت کا موقف ہے کہ یہ قانون پڑوسی ممالک میں مذہب کی بنیاد پر ستائے جانے والے لوگوں کو پناہ دے گا، لیکن اس سے ہندوستان کے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
لیکن نیشنل سٹیزن رجسٹر بھی مودی حکومت کی پالیسیوں کا حصہ ہے، جس کے ذریعے غیر قانونی مسلمانوں کو بھارت سے نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ فی الحال اسے صرف آسام میں لاگو کیا گیا ہے۔قانونی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون آئین کے سیکولر اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔









