اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

نئی افغان امارت کیا حقیقی اسلامی اقدار کا نمونہ ہو سکتی ہے ؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
1
نئی افغان امارت کیا حقیقی اسلامی اقدار کا نمونہ ہو سکتی ہے ؟
66
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: مسعود جاوید

اسلامی نعروں ، علامتی پرچم اور اخباری بیان بازیوں سے عوام اور دنیا کو کچھ وقت کے لئے گرویدہ بنایا جا سکتا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے عموماً وہ عہد وپیمان اور جذباتی نعرے اور بیان کھوکھلے ثابت ہونے لگتے ہیں۔

ملک ، تنظیم یا ادارے کا اسلامی یا جمہوریہ نام رکھنے سے وہ اسلامی یا جمہوریہ نہیں ہوتے۔ نام نہ بھی ہو مگر کام اسلامی یا جمہوری ہو تو وہ اسلامی اور جمہوری ہوں گے۔

سولہویں صدی عیسوی میں فرانس میں انقلاب (1789)کے بعد فرانس ایک جمہوری ملک کے طور پر22 ستمبر1792کو معرضِ وجود میں آیا اس کے بعد سے ہی دنیا کے زیادہ تر ملکوں میں بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا تھا ۔‌ بایں طور فرانس عصر حاضر کا پہلا جمہوری ملک ہے۔ یہ ایک سوشلسٹ ڈیموکریٹک اسٹیٹ ہے مگر اس نے اپنے نام کے ساتھ ایسا کوئی سابقہ یا لاحقہ نہیں لگایا۔‌

دنیا میں بہترین جمہوری نظام شمالی یورپ کے ممالک میں قائم ہیں۔‌سب سے مضبوط جمہوری ملک میں سر فہرست ناروے، اس کے بعد بالترتیب آیسلینڈ، سویڈن، نیو زیلینڈ، ڈنمارک، کینیڈا، آئرلینڈ، سویٹزرلینڈ، فنلینڈ اور آسٹریلیا ہیں۔ اس کے بعد امریکہ، برطانیہ اور جرمنی ہیں۔ تاہم ان کے نام کے ساتھ ڈیموکریٹک کا سابقہ یا لاحقہ نہیں ہے۔ اس کے مقابل لیبیا جس کا باضابطہ سرکاری نام الجماهيرية العربية الليبية الشعبية الاشتراكية العظمى ہے نام اور کام کے فرق سے ہم سب واقف ہیں کہ لیبیا کتنا ڈیموکریٹک سوشلسٹ عوامی اور عظیم تھا، پاکستان کا آفیشیل نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کتنا اسلامی اور کس درجہ کا جمہوری ملک ہے۔

کوئی بھی ریاست اور اس کی حکومت دنیا سے کٹ کر خالص اپنے مقرر کردہ ‌نظام کے تحت نہیں چل سکتی ہر ایک ملک کے لئے عالمی برادری کا حصہ بننا اور مہذب دنیا میں رائج باہمی اخذ و عطا کے نظام سے وابستہ ہونا ناگزیر ہے۔ اور اسی وابستگی کا تقاضا ہوتا ہے کہ بعض اوقات شرعیہ قوانین پر عمل کرنے کے عہد و پیمان کے باوجود اس کا نفاذ نہیں کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سود شرعی طور پر ایک لعنت ہے۔ مگر انٹرنیشنل مونیٹیری فنڈ، ورلڈ بینک اور دیگر بینکوں سے لین دین کرنا ریاستوں کی مجبوری ہوتی ہے۔ عام لوگوں کے سامنے بھی کوئی بدیل نہیں اس لئے بینکوں کے ساتھ معاملات اضطراری حالت کے تحت روا ہے۔ مسلم ممالک کی اتنی بڑی تعداد ہے لیکن افسوس ان ممالک نے بلا سودی بینک، اسلامی بینک، شرعیہ کمپلائیڈ بینک قائم نہیں کیا۔

تاہم ان گو‌نا گوں پیچیدگیوں کے باوجود اگر کوئی مسلم ملک سنجیدگی سے کوشش کرے تو کسی حد تک ایک ماڈل مسلم اسٹیٹ قائم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان بہترین تجربہ گاہ ثابت ہو سکتا ہے اور وہ اس طرح کہ دین اور سیاست میں جدائی پیدا کرنے کی بجائے تطبیق کی کوشش کی جائے۔ شوری کا نظام اور جمہوری نظام میں جو قدر مشترک ہے وہ پیش نظر رہے نا کہ عالمی برادری کو چڑھانے کے لئے جمہوری نظام کو طاغوتی نظام کہہ کر یکسر مخالفت کی جائے۔

قبائلی نظام میں عورتوں کی آزادی پر سخت پہرے داری ہوتی تھی اور ہوتی ہے۔ یہ افغانستان کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔‌ یورپ اس سے مستثنیٰ نہیں تھا تاہم جمہوری نظام سے جیسے جیسے اقوام عالم واقف ہوتی گئیں اور سوچ میں تبدیلی آتی گئی۔ وہ جمہوریت جو بلا شبہ اسلامی تعلیمات سے متصادم نہیں ہے اس نے مساوات پر زور دیا ، عورت مرد مالدار غریب دیہاتی اور شہری میں تفریق کو منع کیا، عورتوں کے ساتھ ظلم و استبداد کا بہت حد تک خاتمہ کیا ان کے حقوق کو تسلیم کیا ، حق زیست، حق تعلیم اور حق روزگار وغیرہ کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ جمہوری حکومتوں کو یہ حقوق دینے اور ان کے حصول میں سہولیات فراہم کرنے کا پابند کیا۔ اس سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے گا کہ اس جمہوری نظام نے ظلم کی چکی میں پستی ہوئی انسانیت کو بہت حد تک راحت پہنچانے کا کام کیا ہے۔

تجارت کا ایک اصول یہ ہے کہ جب تک پروڈکٹ کی افادیت سے صارفین خوب واقف نہیں ہو جاتے پروڈکٹ بغیر لیبل یا کسی کامن نیم لیبل سے مارکیٹ میں چلایا جاتا ہے۔ صارفین کی پسندیدگی کسی حد تک یقینی ہو جاتی ہے تو اسے اپنے نام لیبل برانڈ سے مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔ اسلام اور مسلم نام سے بہت سے غیر مسلموں کو الرجی ہوتی ہے۔ ایسے میں کیا ضروری ہے آپ اسلامی بینک کے نام سے شروع کریں۔ سود در سود وغیرہ سے ہر فرقہ کے لوگ پریشان ہوتے ہیں عملی طور پر اس سے نجات ملے گا وہ بورڈ بینر سے زیادہ اسلامی کام کی تشہیر کرے گا۔ آپ بلا سودی بینک کا چین پورے ملک بلکہ پورے عالم میں پھیلا دیں سود کے متعلق اسلام کے انسان دوست اور غریب پرور نظام سے دنیا واقف ہو جائے گی۔

آپ اسے مرعوبیت کہہ سکتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ مقصد اگر اسلام ہے تو مصلحت کا تقاضا یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ شرعی قوانین کا نفاذ عصری پیرہن میں کیا جائے۔ دینی اصطلاحات پر اس قدر اصرار کیوں ؟

آزادی اظہار رائے، انسانی حقوق ، عورتوں کے حقوق، دینی علوم کے لئے درسگاہوں کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے لئے دانشگاہیں، لڑکے اور لڑکیوں کے لئے تعلیم کے یکساں مواقع ، شفاء خانے ملٹی اسپیشیلیٹی ہاسپیٹل کھیل کود کے میدان اور حوصلہ افزائی یہ چند وہ کام ہیں جن کو لے کر افغانستان کی نئی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اور بالواسطہ اسلام کی تصویر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

کیا افغانستان اسلامی امارت، اسلامی ریاست، اسلامی جمہوریہ کے بجائے فقط ریپبلک آف افغانستان؛ ایک ماڈرن مسلم ملک بن کر ابھر سکتا ہے جو ہمسایہ ممالک اور اقوام عالم سے اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کرے، جہاں شریعت کے ساتھ صریح تصادم نہ ہو وہاں نام اور نعرہ چھوڑ کر عالمی برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے ؟ یہ خبر خوش آئند ہے کہ نئی افغان حکومت نے کہا ہے کہ ان کی جنگجو تحریک سے باہر کے لوگوں کو بھی حکومت میں شریک کرنے کے لئے بات چیت ہو رہی ہے۔

کوئی ایک مسلم ملک تو ایسا سامنے آئے جو اسلام کے حقیقی معاشرتی نظام سے دنیا کو واقف کرائے کہ اسلام نے متعدد المذاھب اور مختلف ثقافتوں والی دنیا میں ہمیں peaceful coexistence پرامن بقاء باہمی کا کیا سبق سکھایا ہے۔ غیر مسلموں کے دیوی دیوتاؤں کو برا بھلا کہنے اہانت کرنے سے منع کیا ہے، ۔مذہبی پیشواؤں پر ہاتھ اٹھانے سے روکا ہے۔ غیروں کو ان کے مذہب تبدیل کرنے کے لئے جبر سے روکا ہے اور کہا ہے دین اسلام میں جبر نہیں ہے اور یہ کہ تمہارے لئے تمہارا دھرم اور میرے لئے میرا دین۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN