اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا یوگی آدتیہ ناتھ اگلے وزیر اعظم بن سکتے ہیں؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کیا یوگی آدتیہ ناتھ اگلے وزیر اعظم بن سکتے ہیں؟
70
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:تنیکا گوڈبولے

بھارت کی سیاسی لحاظ سے سب سے اہم اور سب سے بڑی آبادی والی ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ 10 فروری کو ہوچکی ہے۔ 403 رکنی ریاستی اسمبلی کے لیے مجموعی طور پر سات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ آخری مرحلے کی پولنگ 7مارچ کو ہوگی جبکہ نتائج 10مارچ کو سامنے آئیں گے۔

اس اسمبلی الیکشن میں اترپردیش میں حکمراں بی جے پی کی قسمت داؤ پر ہے جہاں سے تقریباً پندرہ فیصد اراکین پارلیمان ایوان زیریں میں پہنچتے ہیں۔ اس طرح اترپردیش بھارت کے وزیر اعظم کے تعین میں اہم رول ادا کرتاہے۔ بھارت کے اب تک چودہ وزرائے اعظم میں سے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی سمیت نو وزرائے اعظم کا تعلق یو پی سے رہا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ مستقبل کے بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار بن سکتے ہیں۔جس سے قوم پرستی میں اضافہ ہوسکتا ہے اور دائیں بازو کی انتہاپسندی میں شدت آسکتی ہے۔ آدتیہ ناتھ وزیراعظم مودی سمیت حکمراں بی جے پی کے چوٹی کے رہنماؤں کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ کون ہیں؟

آدتیہ ناتھ کی حکومت میں دائیں بازو کی ہندو سیاست کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ اس دوران انہوں نے گائے کے ذبیحہ کے خلاف اور بین المذاہب شادیوں بالخصوص ہندو خواتین اور مسلمان مردوں کے درمیان شادیوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے۔

مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ کا اصل نام اجے موہن بشٹ ہے۔ لیکن یوگی بننے یعنی دنیاوی آسائشوں سے کنارہ کشی اختیارکرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام بدل کر یوگی آدتیہ ناتھ رکھ لیا اور ستمبر2014 ء سے گورکھ ناتھ مندر کے ہیڈ پجاری ہیں۔

اصل دھارے کی سیاست میں شامل ہونے سے قبل انہوں نے ہندو یووا واہنی نامی ایک تنظیم شروع کی۔ گو کہ انہوں نے اسے ہندو مذہبی تنظیم قرار دیا تاہم یہ گائے کے تحفظ اور’’گھر واپسی‘‘ کے لیے کام کرتی ہے۔ گھر واپسی سے مراد اسلام، مسیحیت یا دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو مذہب تبدیل کراکے ہندو بنانا ہے۔

اس تنظیم کا ایک اور مقصد مبینہ ’’لو جہاد‘‘ کی روک تھام ہے۔ ہندو یووا واہنی یہ غلط فہمی پھیلانے میں بڑی حد تک کامیاب ہوگئی ہے کہ مسلمان مرد ہندو عورتوں کو لالچ یا دھوکہ دے کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں اور اس کا اصل مقصد ہندو اکثریتی ملک میں مسلمانوں کا غلبہ قائم کرنا ہے۔

دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سیاسیات کی سابق پروفیسر سدھاپائی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’آدتیہ ناتھ کا امیج ایک مذہبی لیڈر کا ہے۔ انہوں نے اترپردیش کے مشرقی حصے میں اپنی جڑیں قائم کرلیں اور ایک سیاسی رہنما بن گئے۔‘‘ پائی کا تاہم کہنا ہے کہ یوپی سے باہر بھی ان کے اثرات کے بارے میں شبہ پایا جاتا ہے۔

پائی اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں،’’ چونکہ پچھلے پانچ سال کے اقتدار کے دوران ان کا ریکارڈ خراب رہا ہے اس لیے آر ایس ایس(بی جے پی کی مربی تنظیم) شاید انہیں وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش نہ کرے۔ ایک لیڈر کے طورپر بالخصوص جنوبی بھارت میں ان کا کوئی خاص اثر نہیں ہے۔‘‘

اترپردیش میں بی جے پی کی اصل حریف سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی قیادت والی سماج وادی پارٹی ہے، جو حالیہ اسمبلی انتخابات میں متعدد مقامی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

اقتدار میں آدتیہ ناتھ کے پانچ برس

بی جے پی کے ساتھ کئی برسوں تک اچھے تعلقات نہیں رہنے کے باوجود مودی اور وزیر داخلہ امی شاہ سمیت متعدد پارٹی رہنما ترقیاتی منصوبوں اور کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے حوالے سے یوگی کی تعریفیں کرتے رہے ہیں۔

ایک نیوز میگزین ‘’انڈیا ٹوڈے‘ نے سن 2020 میں اپنے ’موڈ آف دی نیشن‘ سروے میں یوگی آدتیہ ناتھ کو بہترین وزیر اعلیٰ بتایا تھا۔ تاہم اپوزیشن جماعتیں اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔

سن 2020 میں بی جے پی حکومت کی جانب سے منظور کردہ متنازعہ زرعی قوانین کی وجہ سے بھی آدتیہ ناتھ کے خلاف کسانوں کی ناراضگی کھل کر سامنے آگئی۔

سیاسی تجزیہ کار یونیورسٹی آف لندن سے وابستہ پروفیسر اروند کمار نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ زرعی قوانین یوگی آدتیہ ناتھ کی انتظامیہ نے نہیں بلکہ مرکز کی مودی حکومت نے بنائے، لیکن کسان تین وجوہات کی بنا پر یوگی آدتیہ ناتھ سے ناراض ہیں۔

اروند کمار کا کہنا تھا،’’پہلی وجہ تو گائے کے ذبیحہ پر پابندی کی وجہ سے آوارہ پھرنے والی گایوں کا مسئلہ ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گذشتہ چار برس کے دوران گنّے کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا اور تیسری وجہ اناجوں کی خریداری کے لیے مارکیٹ کا ناکافی انتظام ہے جبکہ بجلی کی شرحوں میں اضافے نے بھی کسانوں میں ریاستی حکومت کے خلاف غصہ بڑھا دیا ہے۔

گذشتہ کئی ماہ کے دوران آدتیہ ناتھ حکومت کے کئی وزراء پارٹی چھوڑ کر حریف سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے، جو کہ قیادت سے ناراضگی کا اشارہ ہے۔

پروفیسر کمار کہتے ہیں کہ سینئر وزراء کے پارٹی چھوڑنے سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ یوگی صرف اعلی ذات بالخصوص راجپوتوں کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’سینئر وزراء کے پارٹی چھوڑنے سے ادیتیہ ناتھ کا امیج ہندو لیڈر سے راجپوت لیڈر بن گیا، جو کہ ان کے لیے سیاسی لحاظ سے نقصان کا موجب ہوگا۔‘‘

کیا بھارتی سیکولرزم خطرے میں ہے؟

بہت سارے بھارتی شہری مسلمانوں کے خلاف یوگی ادیتیہ ناتھ کے موقف سے فکر مند ہیں۔ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 20 فیصد ہے۔

پروفیسر کمار کا کہنا ہے کہ، ’’وزیر اعلی کے طور پر یوگی کا دوبارہ اقتدار میں آنا بھارت میں سیکولرزم کے نظریہ کے لیے زبردست دھچکا ثابت ہوگا۔ انہوں نے ہمیشہ اقلیتوں کو نشانہ بناکر مقبولیت حاصل کی ہے…اس لیے ان کی کامیابی سے دیگر لیڈروں کو بھی ایسا کرنے کا حوصلہ ملے گا۔‘‘

آدتیہ ناتھ نے اپنی پانچ سالہ مدت کار کے دوران الٰہ آباد اور مغل سرائے سمیت متعدد شہروں کے نام تبدیل کرکے پریاگ راج اور دین دیال اپادھیائے جیسے ہندونام رکھ دیے۔ انہوں نے ’’لو جہاد‘‘ کے خلاف قانون بھی نافذ کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ہندو خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔ بہرحال آدتیہ ناتھ بھارت میں ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے کے مقبول رہنما ہیں اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

سدھا پائی کہتی ہیں،’ ’آئندہ کیا ہوگا اس کا بہت کچھ انحصار ان کی کامیابی کی نوعیت پر ہوگا۔ اگر بی جے پی اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ مزید سخت پالیسیاں نافذ کریں گے۔ اور ناقدین اور اپوزیشن کو کچلنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو، یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN