واشنگٹن :امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کی قیادت کو زندہ چھوڑنے والی جنگ بندی ’’ناقابل قبول‘‘ ہوگی، غزہ جنگ کا واحد حل عسکری حل ہے۔ روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق ملر نے صحافیوں کو بتایا، "ہم سمجھتے ہیں کہ حماس کی قیادت کو ختم کرنے کا صرف فوجی حل ہو سکتا ہے جس نے 7 اکتوبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالآخر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان وسیع تر تنازع کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
دریں اثنا اسرائیل نے غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت 7 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد سے اسرائیل کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے کئی علاقوں میں اسرائیلی فوج کو پسپا کر دیا اور اسرائیلی فیلڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا، جس میں اسرائیلی فوج کی 44 گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔
اسرائیلی فوج نے 4 افسروں سمیت 7 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس نے آج بھی اسرائیلی شہروں کو اپنے میزائلوں کا نشانہ بنایا ہے، غزہ سے فائر کیے گئے میزائل اسرائیلی علاقے شیفالہ، گش دان روجا اور ہولون میں گرے، میزائیل گرنے کے مقامات پر کئی گاڑیوں، عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا اجلاس کل ہوگا۔









