نئی دہلی:(ایجنسی)
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ جن ریاستوں میں ہندو یا دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کم آبادی ہے وہاں مذہب اور زبان کی بنیاد پر متعلقہ گروپ کو اقلیتی برادری قرار دیا جا سکتا ہے مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے مفاد عامہ کی عرضی پر جاری کردہ نوٹس کے جواب میں حلف نامہ داخل کرکے عدالت عظمیٰ کے سامنے اپنی رائے پیش کی ہے۔ درخواست میں کئی ریاستوں میں ہندوؤں اور دیگر کمیونٹیز کی کم آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں اقلیتی برادری کا درجہ دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
مرکزی حکومت نے کہا کہ ہندو، جین سماج جموں و کشمیر، میزورم، ناگالینڈ، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، پنجاب، لکشدیپ، لداخ میں اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کر سکتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے حلف نامہ میں کہا کہ مہاراشٹر حکومت نے سال 2016 میں یہودیوں ( Jews) کو اقلیت قرار دیا تھا۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ عرضی گزار کا یہ استدلال ہے کہ ہندو، یہودیت کے پیروکار جموں و کشمیر، میزورم، ناگالینڈ، منی پور، میگھالیہ، اروناچل پردیش، پنجاب، لکشدیپ، لداخ میں اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم اور ان کا نظم و نسق نہیں کر سکتے، جو صحیح نہیں ہے۔
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ریاستی حکومتیں ریاستی حدود میں مذہبی اور لسانی برادریوں بشمول ہندوؤں کو اقلیت قرار دے سکتی ہیں۔ مرکزی حکومت نے یہ اعتراض ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی طرف سے دائر درخواست کے جواب میں دیا ہے، جس میں اس نے قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے ایکٹ، 2004 کے سیکشن 2 (f) کی درستگی کو چیلنج کیا ہے۔
اپادھیائے نے اپنی درخواست میں، سیکشن 2(f) کے جواز کو چیلنج کیا، اور کہا کہ یہ مرکز کو بہت زیادہ طاقت دیتا ہے جو ’واضح طور پر من مانی، غیر منطقی اور تکلیف دہ‘ ہے۔










