بنگلورو :(ایجنسی)
کرناٹک میں ٹھیکیدار سنتوش پاٹل کی خودکشی کے بعد ریاست کی بی جے پی حکومت مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔ کانگریس نے کابینی وزیر کے ایس ایشورپا کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک محاذ کھول دیا ہے، جب کہ ریاست کی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے تمام سنگین الزامات کی بارش کردی ہے۔
ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ 25 مئی کو بنگلورو میں سرکاری محکموں کی طرف سے مانگی جارہی رشوت کے خلاف ایک ریلی نکالی جائے گی اور اس میں ریاست بھر سے 50,000 ٹھیکیدار شرکت کریں گے۔
ایسوسی ایشن کے صدر ڈی کے ایم پنا اور دیگر عہدیداروں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بسواراج بومئی کی حکومت میں بدعنوانی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے اور پوری حکومت حتیٰ کہ چیف منسٹر کا دفتر بھی کمیشن خوری کے اس ریکٹ میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزراء اور ایم ایل اے براہ راست سرکاری کاموں کی ٹینڈرنگ کے لیے 40 فیصد کمیشن مانگتے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ وزراء اور قانون سازوں نے کمیشن لینے کے لیے اپنے ایجنٹوں کو مختلف علاقوں میں تعینات کیا ہے۔
یقینی طور سے ایسو سی ایشن کے ذریعہ یہ کہے جانے پر کہ وزیر اعلیٰ کا دفتر کمیشن خوری میں شامل ہے،یہ نہ صرف ریاستی سرکار بلکہ بی جے پی کی قیادت والی مودی حکومت کو بھی مشکل میں ڈالتا ہے ۔
ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اگلے 15 دنوں میں اس حکومت کے 5 سے 6 وزراء اور 20 ایم ایل ایز کی بدعنوانی سے متعلق دستاویزات جاری کرے گی۔ اس نے کام بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔










