نئی دہلی : ( آر کے بیورو)
جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا ہے کہ آسام کے دھول پور میں مبینہ غیر قانونی تجاوزات سے بے دخل کرنے کے دوران ظلم وبربریت کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے ،نیز ان کی باز آبادی کو یقینی بنایا جائے ۔ اس سلسلہ میں جماعت اسلامی ،جمعیۃ علماء اور ایس آئی او پر مشتمل وفد نےمتاثرہ علاقہ کا دورہ کیا اور وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما سے ملاقات کے دوران یہ بات رکھی۔ اس سلسلہ میں آج جماعت کے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس ہوئی اور میڈیا کو وہاں کے تازہ ترین حالات سے واقف کرایا۔
اس موقع پر امیر جماعت نے کہاکہ تجاوزات ہٹانے کے تعلق سے قانونی پروسیس کا لحاظ نہیں کیاگیا اور انتظامیہ نے طاقت کا بے جا استعمال کیا اور پورے معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا گیا۔ امیر جماعت نے بہت واضح طور سے کہاکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی کو اجاڑنے سے پہلے اس کی بازآبادکاری اور دیگر ضروریات کا پورا انتظام کرے۔ واضح رہے آسام سرکار کےحالیہ قدم نے 900 فیملیز کو متاثر کیا اور کم وبیش پانچ ہزار افراد بے گھر ہوگئے۔
روز نامہ خبریں کے اس سوال پر کہ آسام میں لاش کی بے حرمتی اور یوپی میں مولانا کلیم صدیقی کی دھرم پریورتن کے معاملے میں گرفتاری جیسے اقدامات سے نوجوانوں میں بے چینی ہے ،ان کو کیسے ایڈریس کریں گے ، نیز کیا جماعت اسلامی طور پر دباؤ محسوس کررہی ہے کیونکہ اس کااصل کام ہی دعوت تبلیغ ہے ۔ امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوجوانوں میں بےچینی ہے اور یہ فطری ہے ۔ ہم سب محاذوں پر سرگرم ہیں۔ سیاسی جماعتوں پر بھی دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوں کی بے چینی کو صحیح رخ دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ دوسرے کسی بھی مذہب کی تبلیغ واشاعت پر ہر شہری کاآئینی حق ہے ۔ اس کے حوالہ سے کی جانے والی کارروائیاں غیرمناسب اور غیر قانونی ہیں ۔ اسلام کا بنیاد ی فلسفہ تو یہ ہے کہ وہ جبر وترغیب کا قائل نہیں۔ یہ محض سیاسی ایشوہے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ کمیونل ایجنڈہ صرف مسلمانوں کو ہی نہیں ملک کو نقصان پہنچائے گا۔
جمعیۃ اور جماعت کے درمیان اہم ایشو پر تعاون کیا آگے جاری رہے گا؟ ۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ بالکل اور یہ پہلی کوشش نہیں، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہاہے اور آگے بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ ایس امین الحسن نے کہاکہ یہ سچ ہے کہ زمین پر ناجائز فیصلہ تھا اور ظاہری طور پر انتظامی وقانونی کارروائی ہے ۔ مسٹر امین نائب امیرجماعت ہیں ان دونوں کے علاوہ شفیع مدنی بھی موجود رہے، جو سکریٹری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ آسام کو تمام صورت حال سے آگاہ کرایا ۔ انہوں نے ان لوگوں کو بسانے اورہرممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہاکہ مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی یو ڈی ایف بھی بھرپور تعاون کررہی ہے ۔ انہوں نے بتایاکہ آئندہ بھی وہ خود وہاں جائیں گے ۔ فی الحال فیکٹ فائنڈنگ ٹیم دورے پر ہے ۔










