لکھیم پور کھیری (ایجنسی)
لکھیم پور کھیری کے تکونیہ میں جس طرح کسانوں کی تحریک پرتشدد ہو گئی اور 4 کسانوں کی موت کے بعد کسانوں کی ناراضگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ،اس سے حکومت کے ہاتھ پاؤں پھل گئے ، جس طرح سے پرینکا گاندھی اور دوسرے لیڈروں نے لکھیم پور پہنچنے کا ارادہ کیا ریاستی حکومت کے لیے حالات کو سنبھالنا اور بھی مشکل ہو رہا تھا۔ ایسے میں راکیش ٹکیت ہی یوگی سرکار کے کام آئے ہیں ۔
یوپی انتظامیہ نے تمام سیاستدانوں کو راتوں رات لکھیم پور کھیری اورتکونیہ پہنچنے سے روک دیا۔ پرینکا گاندھی کو سیتا پور میں روکا گیا ، چندرشیکھر آزاد کو سیتاپور ٹول پلازہ پر روکا گیا۔ اسی طرح دیگر رہنماؤں جیسے شیو پال یادو ، اکھلیش یادو ، جینت چودھری کو لکھیم پور پہنچنے سے پہلے ہی حراست میں لے لیا گیا۔اس درمیان صرف ایک لیڈر وہاں پہنچے وہ تھے راکیش ٹکیت ۔
راکیش ٹکیت غازی بارڈر سے رات کو ہی چلے اور دیر رات کو ہی لکھیم پور کھیری کے تکونیہ کے اس گرودوارہ میں پہنچ گئے جہاں چاروں کسانوں کی لاش رکھی ہوئی تھی۔ کسان کسی بھی صورت میں چاروں لاشوں کے پوسٹ مارٹم کو تیار نہیں تھے، مانگ تھی کہ بی جے پی کے وزیر داخلہ برائے مملکت اجے مشرا ٹینی پر مقدمہ درج ہو ،ا ن کے بیٹے کو گرفتار کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ برائے مملکت اجے مشرا ٹینی کے استعفیٰ کی مانگ تھی۔
کسانوں ناراضگی کے پیش نظر ایسا لگ رہا تھا کہ سرکار کے لیے کسانوں کو ماننا بے حد مشکل ہوگا،لیکن راکیش ٹکیت کو وہاں جانے دینا سرکار کے لیے بڑی راحت ثابت ہوا۔ اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار، آئی جی زون لکھنؤ لکشمی اور کمشنر لکھنؤ رنجن کمار لگاتار تکوینہ کے اس گرودوارہ میں کسانوں سے رابطہ میں تھے لیکن سمجھوتہ کی راہ جب نکلی جب راکیش ٹکیت نے کسانوں کی طرف سے مورچہ سنبھالہ اور کسانوں کی طرف سے سرکار سے بات کی ۔
کئی گھنٹے کی بات چیت اور مہلوکین کسانوں کے اہل خانہ کو اعتماد میں لینے کے بعد سرکار سمجھوتہ پر پہنچی اور اس میں اہم رول راکیش ٹکیت نے ادا کیا۔ گزشتہ رات کو انتظامیہ کے لیے اس علاقے میں گھسنا بے حد مشکل تھا ایسے وقت میں جب تکونیہ کے علاقے میں کتنا مشکل تھا اور کسی بھی سیاسی پارٹی کو وہاں نہیں جانے دیا گیا تب راحت کی خبر لے کر راکیش ٹکیت آئے۔
سمجھوتہ میں ریٹائرڈ جج سے معاملے کی عدالتی جانچ ،ہر ایک مہلوک کے اہل خانہ کو 45 لاکھ کا معاوضہ ، زخمیوں کے لیے 10 لاکھ کامعاوضہ ۔ 8 دنوں کے اندر اہم ملزم کی گرفتاری اور اہل خانہ کے ایک ممبر کو سرکاری نوکری کی بات ہیں ۔ پھر راکیش ٹکیت اور اترپردیش اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے پریس سے بات کی۔ اس سے صاف ہوگیا کہ سرکار کی حکمت عملی کام آئی اس موقع پر تنہا راکیش ٹکیت ہی ہیں جو سرکار کے کام آسکتے ہیں ۔










