حیدرآباد: تلنگانہ مسلم تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے میدک ٹاؤن میں مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنانے والے ہجوم کے حملوں کے خلاف ریاست گیر احتجاج کی کال دی ہے، تلنگانہ بھر کے مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ عید کی نماز کے دوران خاموشی اختیار کرنے کے لیے سیاہ بیجز پہنیں۔ سیاست نیوز کے مطابق کمیٹی نے تمام اضلاع کے عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ احتجاج کے دوران امن کو یقینی بنائیں۔ تنظیم کے قائدین نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ پولیس خاموش بیٹھی ہے جبکہ میدک قصبہ میں تین گھنٹے تک فسادات جاری رہے۔ انہوں نے تشدد کو روکنے میں پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ "یہ معلوم ہے کہ آر ایس ایس نے واقعہ کے دن پہلے میدک ٹاؤن میں فرضی ویڈیو اور تصاویر پھیلائی تھیں۔ شام کو انہوں نے مسلمانوں کے ہوٹلوں، دکانوں اور دیگر اداروں پر حملہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معلوم ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور کانگریس حکومت اس سلسلے میں چوکس نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مزید واقعات ہونے کے امکانات ہیں اور بی جے پی صرف اس طرح کی کشیدگی کو ہوا دے کر اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے خود ہی شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں پر حملے کا منصوبہ بنایا۔کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگ کوئی تنظیم گزشتہ ایک ہفتہ سے تلنگانہ میں بقرعید کے تہوار کے دوران فسادات کی سازش کر رہی تھی تو ریاستی حکومت اسے روکنے میں ناکام رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ میدک ٹاون میں واقع دینی مدرسہ منہاج العلوم کے انتظامیہ نے عیدالاضحی کے موقع پر ذبح کرنے کیلئے بڑے جانور کی خریدی کی تھی۔ بڑے جانور کی مدرسہ منتقلی کے موقع پر کشیدگی پیدا ہوگئی اور مقامی ہندوتوا تنظیموں نے ہنگامی آرائی اور گڑبڑ شروع کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے جانور کو گئوشالہ منتقل کیا جائے۔ مقامی افراد کی مداخلت کے بعد ہندوتوا تنظیموں کے کارکن واپس ہوگئے سیاست نیوز کے مطابق ایک گھنٹہ بعد کثیر تعداد میں جلوس کی شکل میں نعرے لگاتے ہوئے پہنچے اور مدرسہ پر حملہ کردیا۔ مدرسہ کے اندر اور باہر موجود افراد کو لاٹھیوں سے حملہ کرتے ہوئے زخمی کردیا گیا جنہیں مقامی اسپتال میں علاج کیلئے داخل کیا گیا۔ اسی دوران پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کیا۔ ہندوتوا تنظیموں کے کارکنوں نے اس ہاسپٹل پر حملہ کیا جہاں زخمیوں کا علاج جاری تھا۔ ہاسپٹل میں داخل ہوکر زخمیوں کو مار پیٹ کی گئی، ہاسپٹل پر سنگباری کی گئی اور وہاں موجود گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے حملہ آوروں کو منتشر کیا۔ اس واقعہ کی اطلاع عام ہوتے ہی علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی اور بازار بند کردیا گیا۔ پولیس نے احتیاطی طور پر ٹاؤن میں پٹرولنگ میں اضافہ کردیا۔ زخمیوں کے مطابق اقلیتوں کو منصوبہ بند انداز میں نشانہ بنانے کیلئے یہ کارروائی کی گئی۔ مدرسہ اور مقامی افراد کو منصوبہ بند طریقہ سے نشانہ بنایا گیا۔ میدک پولیس کے مطابق صورتحال قابو میں اور پُرامن ہے۔
آخری خبر ملنے تک سات افراد گرفتار کیے گئے اور انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔









