اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

یوم آیین : تقاضے اور چیلنج

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
یوم آیین : تقاضے اور چیلنج
155
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp


ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

ہمارا ملک ہندوستان ایک طویل جدوجہد کے بعد 1947 میں انگریز تسلط سے آزاد ہوا، آزادی کے بعد ہمارے قائدین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ایک ایسے جامع دستور کی تدوین تھا جو ہمارے ملک کے تمام شہریوں کو تحفظ و ترقی کو یقینی بنا سکے، چنانچہ ایک ایسے جامع دستور کی تدوین کی گئی جس میں نظام جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے، حکومتی اداروں کے طریقہ کار کے ساتھ ہی دائرہ کار، اختیارات نیز ذمہ داریوں کا تعین، شہریوں کے لئے بنیادی شہری حقوق کے ساتھ ساتھ رہنما اصول کا باب نیز طرز حکومت کو لے کر دنیا کا سب سے زخیم دستور تیار کیا گیا جس دستور کو آج سے ۷۲ سال پہلے 26 نومبر 1949ء کو منظوری حاصل ہوئی، جس کے بعد سے ہر سال ہمارا ملک 26 نومبر کو “یوم دستور” کی شکل میں منایا جاتا ہے۔ دستور ساز اسمبلی نے دستور ہند کو 26 نومبر 1949ء کو اخذ کیا اور 26 جنوری 1950ء کو تنفیذ کی اجازت دے دی۔ دستورِ ہند کے نفاذ کے بعد سے بھارت میں جمہوری طرز حکومت کا آغاز ہوا۔آبادی کے لحاظ سے ہندوستان، دنیاکی سب سے بڑی پارلیمانی، غیرمذہبی جمہوریت کے طور پر جانی جاتی ہے۔
آزادی حاصل ہونے سے قبل ہی دستور کیبنٹ مشن پلان کی تجاویز کے مطابق نومبر1946ء میں قانون ساز اسمبلی وجود میں آئی۔اسمبلی کے ارکان کو منتخب کرنے لئے باقاعدہ انتخاب کرائے گئے۔برٹش انڈیا کی 296نشستوں میں سے 211؍نشستوں پر کانگریس اور 73؍نشستوں پر مسلم لیگ کی جیت ہوئی۔اس طرح اسمبلی نے ایک خود مختار ادارے کی شکل اختیار کرلی جو اپنی مرضی کے مطابق اپنا پسندیدہ آئین وضع اختیار کرسکتی تھی۔دستور سازاسمبلی کا پہلا اجلاس 9؍دسمبر 1946ء کو ہوا جس کے بعد 11؍دسمبر1946ء کو ڈاکٹر راجندر پرشاد اس کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ آئین کو وضع کرنے کے لیے بہت سی کمیٹیاں بھی قائم کی گئی تھیں اور ان کمیٹیوں کی رپورٹ کی بنیاد پر ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کی چیئرمین شپ میں 19؍اگست 1947ء کو ایک ڈرافٹنگ کمیٹی وجود میں آئی۔ فروری 1948ء میں اس قانون کا مسودہ (ڈرافٹ )شائع کیا گیا، دستور ساز اسمبلی میں 284 اراکین اسمبلی کی دستخط کے ساتھ دستور ہند کا مسودہ تیار کیا گیا تھا ۔26؍نومبر 1949ء کو آئین کو منظوری دے دی گئی اور اس کا اطلاق 26؍جنوری 1950ء کو ہوا۔ 1950ء سے اب تک اس آئین میں تقریباً 103؍ترمیم ہو چکی ہیں۔
ہمارا ملک زمانہ قدیم سے ہی مختلف قوموں اور مذاہب کا مرکز رہا ہے، یعنی ہمارے ملک میں ایک ایسے دستور کی ضرورت تھی جو نا صرف ہمارے ملک کا طرز حکومت طے کرے بلکہ حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت نیز شہریوں کو حاصل حقوق و مراعات کے ساتھ ساتھ ذمہ داریوں کو بھی باقاعدہ تحریر کیا جائے۔ ہمارے دستور میں تمام شہریوں کے لئے 6 ؍ بنیادی حقوق عطا کیے جواس طرح ہیں، (1) حق مساوات، یعنی کسی بھی شہری کے ساتھ اس کے مذہب و عقیدہ، ذات پات، رنگ و نسل، یا کسی بھی دیگر بنیاد پر تفریق نہیں کی جائے گی۔ (2) حق برائے آزادی یعنی کسی بھی شہری کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ کسی بھی شہری پر کسی طرح کی پابندی عائد کرے یا اس کو حاصل شدہ آزادی میں رخنہ ڈالے، انسانی اقدار کے ساتھ ایک باعزت طریقے سے زندگی گزارنے کا حق بھی اسی حق میں شامل ہے۔(3) ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کو ہر طرح کے استحصال سے تحفظ فراہم کیا جائے، (4) ہمارے ملک کا دستور تمام شہریوں کو مذہبی آزادی کا حق فراہم کرتا ہے یعنی کوئی بھی شہری اپنی خواہش اور سمجھ کی بنیاد پر کسی بھی مذہب پر عمل کرسکتا ہے، مذہبی آزادی کے تحت کوئی بھی شہری کسی بھی مذہبی رسم و رواج پر عمل کرسکتا ہے نیز وہ کسی بھی مذہبی تعلیم یا عمل سے انکار بھی کرسکتا ہے۔ (5) ہمارا ملک زمانہ قدیم سے متعدد و متفرق تہذیب و ثقافت کا گہوارہ رہا ہے جو یہاں پر اپنی مختص تہذیب کے ساتھ ہماری تاریخ کا حصہ رہے ہیں، چنانچہ ہمارے ملک کے دستور نے ان تمام ہی شہریوں کو یہ حق فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی تہذیب و تمدن کے تحفظ کے لئے اپنے تعلیمی و ثقافتی ادارے نیز رسم و رواج کی پابندی کرنے کا حق رکھتے ہیں نیز حکومت ان کو خاص مراعات فراہم کرنے کی مکلف بنائی گئی ہیں اور (6) اپنے دستوری حقوق کے تحفظ کے لئے ہمارا دستور تمام شہریوں کو قانونی چارہ جوئی کا حق بھی فراہم کرتا ہے، یعنی اگر کسی شہری کے دستوری حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو وہ قانونی چارہ جوئی کرسکتا ہے۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی اہم ہے کہ ہمارا دستور اظہار رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی دوسرے شہریوں کے مذہبی جذبات و عقائد کو مجروح کرنے کی قطعا ًاجازت نہیں دیتا ہے۔
دستور ہند کے تحت شہریوں پر بھی چند بنیادی فرائض و ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، ان احکامات و اصول کی پابندی کرنا تمام ہی شہریوں کی دستوری ذمہ داری ہیں، ان شقات کے تحت ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ دستور کا احترام کرے، دستور کے مطابق عمل کرے، اس کے احکام، اداروں، قومی پرچم اور قومی ترانہ کا احترام کرے، ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ، اتحاد اور اس کی سا لمیت کا تحفظ و احترام کرے۔ ملک کے تمام شہریوں و تمام قوموں و طبقوں میں اتحاد و اخوت کے جذبات کو فروغ دے، مخلوط ثقافت کی وراثت کی قدر کرے اور اس کا تحفظ کرے، قومی وسرکاری املاک کا تحفظ کرے، ملک و سماج میں کسی بھی قسم کے تشدد سے اجتناب کرے۔
ہمارا دستور ہمارے ملک میں نظام حکومت کے لئے نظام جمہوریت کا انتخاب کرتا ہے، ہمارے نظام جمہوریت میں مذہب کی اہمیت کابھی اعتراف کیا گیا ہے اور دستور میں یہ اصول بنایا گیا ہے کہ ہمارے ملک کی حکومتیں مذہب کی بنیاد پر حکومت نہیں کریں گی، دستور کی روشنی میں ہمارے ملک کو سیکولر اسٹیٹ کہا گیا ہے، جہاں حکومت کی دستوری ذمہ داری ہے کہ ہر مذہب کے تحفظ و احترام کو یقینی بنائے اور مذہب کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں کیاجائے گا۔ مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا ئے گا،دستور کی رو سے ہر شہری قانون کی نگاہ میں برابر ہے، ہر شہری کو آزادیِ رائے، آزادیِ خیال اور آزادیِ مذہب حاصل ہے۔ دستور نے مذہبی و لسانی اقلیتوں کو دستوری تحفظ فراہم کرتے ہوئے دستور میں ان کوحقوق دیے گئے ہیں تا کہ وہ اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں، اپنی تہذیب و تمدن، مذہب و زبان کو قائم و محفوظ رکھیں نیز اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت پوری آزادی کے ساتھ کرسکیں۔
آج ہم سب کے لئے غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات یا اسباب ہیں کہ آزادی حاصل کرنے و آزاد ملک کے دستور کے نفاذ کے ستر دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہمارا تحریری شکل میں موجود دنیا کا سب سےضخیم و تفصیلی دستور ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں ان دستوری حقوق کی کوئی اہمیت و قدر نہیں ہے؟ آخر کیوں ہمارے ملک میں شہری و دستوری حقوق کی پامالی و خلاف ورزی ایک عام سے بات ہوگئی ہے؟ یقینا ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ دستور میں تحریر کردہ حقوق و مراعات صرف لکھ دینے سے حاصل نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ ہمارا دستور ہم سے یہ امید کرتا ہے کہ ہم اپنے ملک و سماج کو ایسا بیدار و ذمہ دارسماج بنائیں جو دستور میں بتائے گئے شہریوں کے حقوق و مراعات کے احترام و تحفظ کو اپنی دستوری و سماجی ذمہ داری سمجھیں، ان حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی و عملی اقدامات کے لئے کوشاں رہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN