بنگلور :(ایجنسی)
کرناٹک میں کانگریس کے ممبران اسمبلی کا گزشتہ تین دنوں سے اسمبلی کے اندر مظاہرہ جاری ہے ۔ وہ ریاست کے دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے وزیر کے ایس ایشورپا کے قومی پرچم پر مبینہ بیان کیلئے انہیں برخاست کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ کانگریس ممبران اسمبلی نے اسمبلی ہال کے اندر ودھا سودھ میں ڈیرا ڈال رکھا ہے اور وہ رات میں بھی وہیں سو رہے ہیں ۔ کرناٹک ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ضدی رویہ کی وجہ سے احتجاج ہورہا ہے ۔
شیو کمار نے کہا کہ ایشورپا کے استعفیٰ کا مطالبہ کون کررہا ہے ؟ کوئی بھی نہیں ، ہم ان کی برخاستگی چاہتے ہیں ۔ گورنر تھاورچند گہلوت سے بھی ہماری اپیل ہے کہ انہیں برخاست کیا جائے ۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگلے دو دنوں میں عہدہ سے برخاست کردیا جائے گا ۔ شیو کمار نے کہا کہ وزیر اعلی بسوراج بوممئی پر ان کی ہی پارٹی کے اندر سے دباو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی عزت نفس ہوتی تو وہ ’بدزبان‘ ایشورپا کو تبھی سرکار سے نکال دیتے ، جب انہوں نے کہا تھا کہ مروگیش نرانی اگلے وزیر اعلیٰ بنیں گے ۔

بہر حال ، وزیر اعلیٰ نے ہفتہ کو کہا تھا کہ کانگریس اپوزیشن پارٹی ہونے کی مورالیٹی کھوچکی ہے ۔ کانگریس کے اسمبلی میں ہورہے احتجاج پر بومئی نے کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے یا اپوزیشن میں بیٹھنے کی مورالیٹی کھوچکے ہیں جبکہ شیو کمار کے ایک قریبی ذرائع نے میڈیا سے کہا کہ ڈی کے شیو کمار اور دیگر کانگریس لیڈران کچھ دیر کیلئے گھر گئے اور پھر واپس آئے ۔ آندولن تب تک جاری رہے گا جب تک کہ ایشورپا کو برخاست نہیں کردیا جاتا ہے یا موجودہ اسمبلی سیشن ختم نہیں ہوجاتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ممبران اسمبلی رات میں اسمبلی کے اندر ہی سو رہے ہیں ۔ صبح ہونے پر وہ ودھا سودھ میں ہی یوگ اور سیر کرتے ہیں ۔
غور طلب ہے کہ وزیر ایشورپا نے نو فروری کو کہا تھا کہ مستقبل میں کبھی بھگوا پرچم قومی پرچم بن سکتا ہے ۔ حالانکہ ان کی ہی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا تھا کہ ابھی ترنگا ہی قومی پرچم ہے اور سبھی کو اس کا احترام کرنا چاہئے ۔










